MQMpakistani

  • فونٹ سائز بڑھائیے
  • طے شدہ فونٹ سائز
  • فونٹ سائز گھٹائیے

کراچی بزنس کمیونٹی متحدہ کے ساتھ ہے: ذوالفقار مرزا کا اعتراف

ای میل چھاپیے پی ڈی ایف

آج مؤرخہ 15 مارج 2012 کو متحدہ نے کراچی بزنس کمیونٹی سے بھتہ لینے، انکو اغوا کرنے والے مافیاز کے خلاف احتجاجا قومی اسمبلی سے واک آؤٹ کیا۔ اس پر متحدہ مخالفین الزام لگا رہے ہیں کہ متحدہ "چور مچائے شور" کر رہی ہے۔ یعنی خود بھتہ لے کر دوسروں پر بھتہ کا الزام لگا رہی ہے۔

ان مخالفین اور حاسدین کا منہ بند کر دینے کے لیے ذوالفقار مرزا کی گواہی کافی ہے کہ کراچی بزنس کمیونٹی متحدہ کے ساتھ ہے۔

یہ ذوالفقار مرزا کی وہ مشہور تقریر ہے جو اُس نے اپنے وزیر داخلہ کے عہدے سے استعفی دیتے ہوئے کی اور کھل کر متحدہ کے اوپر ہر طرح کے الزامات لگائے۔

مگر اسی تقریر میں اسکے منہ سے حق بات بھی نکل گئی کہ کراچی کی بزنس کمیونٹی مکمل طور پر متحدہ کے ساتھ ہے۔ دیکھئیے اس ویڈیو کو 33 منٹ کے بعد


Watch live video from aajnews21 on Justin.tv

یاد رہے کہ ذولفقار مرزا کے دور میں لیاری گینگ نے پچھلے تمام ریکارڈز توڑتے ہوئے صنعت کاروں، اور انکے بچوں کو اغوا کیا ہے، اور انہیں قتل کیا ہے۔ پوری پولیس فورس لیاری گینگ کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے۔ کوئی بھی انکا پرسان حال نہیں ہوتا۔

ذوالفقار مرزا نے اپنے دور میں کئی ہزار جرائم پیشہ افراد کو بھرتی کیا۔ مگر ہماری قوم خاموش رہی، عمران خان خاموش رہا، جماعت اسلامی منافق خاموش رہی، کوئی ایسا نہیں تھا جو اس پر بولتا۔ 

نتیجہ نکلا کہ کراچی میں یکدم بزنس کمیونٹی کو اغوا کیا جانے لگا اور پولیس نے انکو پروٹیکشن دینے کی بجائے سہراب گوٹھ اور لیاری کے جرائم پیشہ افراد کو پروٹیکشن دی۔

اور پی ٹی آئی والوں، اور نواز شریف والوں، اور جماعتیوں نے اسی ذوالفقار مرزا کو اپنا ہیرو بنایا۔

کراچی کی بزنس کمیونٹی کا متحدہ کے ساتھ کھڑا ہونا ان متحدہ حاسدوں کے منہ پر زناٹے دار طمانچہ ہے جن کے منہ سے اس جھوٹ کے علاوہ کچھ اور نہیں نکلتا کہ متحدہ بھتہ لیتی ہے۔ 

کیسی عجیب بات ہے کہ جن سے پیسہ لیا جاتا ہے وہ تو متحدہ پر الزام نہ لگائیں بلکہ انکے ساتھ رہیں۔۔۔۔ مگر یہ متحدہ حاسدین، انکی زبانیں جھوٹے الزامات لگانے سے نہ تھکیں۔ 

لعنت ہے انکی اس ذہنیت،، اس بہتان تراشی پر اور اسی متحدہ دشمنی میں ہی ان کم عقلوں نے ذوالفقار مرزا کو اپنا ہیرو بنا کر اپنے سر پر بٹھا رکھا تھا۔

 

آفاق احمد کی جھوٹی گواہی: الطاف حسین نے ایجنسیوں سے پیسہ لیا

ای میل چھاپیے پی ڈی ایف

مؤرخہ 12 مارچ 2012 کو جنگ اخبار میں آفاق احمد کا یہ بیان چھپا ہے۔ (لنک)

کہتے ہیں کہ نقل کے لیے بھی عقل چاہیے۔ اس طرح جھوٹ بولنے کے لیے بھی عقل کی ضرورت ہے، وگرنہ آپ کا جھوٹ رنگے ہاتھوں پکڑا جائے گا۔

آفاق احمد کا دعوی ہے:

" سن 1992 میں انکی عینی موجودگی میں الطاف حسین کو پیسہ دیا گیا۔"

مگر حقیقی یہ ہے کہ آفاق احمد سن 1989 میں ہی ایم کیو ایم سے منحرف ہو گئے تھے اور سن 1990، 1991، 1992 میں دور دور تک ایم کیو ایم سے کسی رابطے میں نہیں تھے۔

ایک یہ ہی بات آفاق احمد کے جھوٹ کا پول کھول دینے کے لیے کافی ہے۔

الطاف حسین پر جو لوگ الزام لگا رہے ہیں، انکا پورا دارومدار یونس حبیب کے ایک بیان کو توڑ مڑوڑ کر پیش کرنے پر ہے۔

جب یونس حبیب صاحب نے دیکھا کہ انکے بیان کو غلط رنگ دیا جا رہا ہے، تو پھر انہوں نے کھل کر بیان دیا اور واضح کیا کہ الطاف حسین نے کوئی پیسہ نہیں لیا۔

مگر حاسدین پھر بھی تہمت لگانے سے باز نہیں آئے۔ انکا اگلا بہتان یہ تھا کہ متحدہ کے ہاتھوں جان کے خوف سے یونس حبیب نے وہ وضاحتی بیان دیا ہے کہ الطاف حسین نے کوئی پیسہ نہیں لیا۔

ان بہتان تراشوں اور انکے حیلے بازیوں کا حساب تو اللہ لے ہی لے گا۔ فی الحال ذیل کے حقائق پر غور فرمائیے۔

یونس حبیب کے علاوہ برگیڈیئر امتیاز کی گواہی کو بھی آپ مدنظر رکھیں۔ اور برگیڈیئر امتیاز یہ گواہی 20 سال بعد دے رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ انکے دل میں الطاف حسین کا احترام ہے کیونکہ یہ واحد لیڈر تھا جس نے اپنے نظریات بیچنے سے انکار کر دیا اور پیسہ لینے سے انکار کر دیا۔ 20 سال کے بعد برگیڈیئر امتیاز کو تو متحدہ سے کوئی خطرہ نہیں کیونکہ وہ کراچی میں نہیں رہتے۔ 

اور آپ امت اخبار کو دیکھ لیں جو دن رات متحدہ کے خلاف جھوٹ پر جھوٹ لکھتا ہے اور آج تک اسکو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ 

پھر یونس حبیب اور برگیڈیئر امتیاز کے بعد ایک اور بہت ہی اہم شخصیت جنرل اسد درانی کی ہے جو کہ آئی ایس آئی کے اُس وقت کے سربراہ تھے اور براہ راست تعلق رکھتے ہیں اس تمام کاروائی سے۔ انہوں نے بھی کھٖل کر گواہی دی ہے کہ الطاف حسین واحد لیڈر ہیں جنہوں نے پیسہ لینے سے انکار کر دیا تھا، جبکہ بقیہ تمام پیسہ لینے والے لیڈران کی لسٹ انکے پاس موجود ہے۔ 

جنرل اسد درانی کو بھی متحدہ سے کوئی خطرہ نہیں۔ اور آپ ایک فوجی سے یہ کیوں توقع کرتے ہیں کہ وہ اپنی جان کے خوف سے متحدہ کے خلاف گواہی دینے سے انکار کر دے گا۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہونا چاہیے تھے کہ جنرل اسد درانی انکار کر دیتے کہ انہیں پتا نہیں کہ الطاف حسین نے پیسہ لیا یا نہیں۔ 

دیکھئیے، جنرل اسد درانی نے سب سے پہلے یہ گواہی 1990 کی دھائی میں دی۔ مجھے صحیح تاریخ یاد نہیں، مگر یہ بہرحال 1990 کی دھائی تھی جب انہوں نے پہلا بیان حلفی عدالت میں داخل کروایا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب کہ متحدہ کے خلاف انتہائی خوفناک ریاستی دہشتگرد آپریشن جاری تھا اور کراچی میں ہر طرف حقیقی کا راج قائم تھا۔ مگر اس پہلے بیان حلفی میں بھی انہوں نے متحدہ کو بری الذمہ رکھا۔ 

اگلی گواہی یوسف ایڈووکیٹ کی ہے جس نے کھل کر کہا ہے کہ الطاف حسین کو اس نے ایک پائی تک نہیں دی ہے۔ 

آپ سے درخواست ہے کہ وسیع قلبی کے ساتھ آپ ہمارے مقدمے پر غور فرمائیے۔

اوپر پیش کردہ "براہ راست" گواہیاں ہیں جو کہ متحدہ کی براۃ ثابت کر رہی ہیں۔

انکے علاوہ کچھ ایسی گواہیاں بھی ہیں جو کہ براہ راست تو نہیں، مگر پھر بھی اہم ہیں۔

برگیڈیئر امتیاز نے کھل کر حمید گل کا نام لیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ پیسہ وہ حمید گل کے حکم پر الطاف حسین کو دینے گئے تھے۔ مگر جنرل حمید گل نے آج تک یہ الزام نہیں لگایا ہے کہ الطاف حسین نے کوئی پیسہ لیا۔ 

اور جنرل مرزا اسلم بیگ کے حکم پر کرنل میر پیسہ لے کر الطاف حسین کے پاس گئے۔ مگر جنرل مرزا اسلم بیگ نے بھی اپنے پورے بیان حلفی میں آج تک متحدہ کا نام نہیں لیا کہ الطاف حسین نے کوئی پیسہ لیا۔ 

ان دو حضرات (حمید گل اور مرزا اسلم بیگ) کو متحدہ سے کوئی ڈر و خوف نہیں۔ مگر اسکے باوجود متحدہ کے معاملے میں وہ خاموش ہیں (یاد رہے یہ دونوں حضرات مسلسل امت اخبار کو انٹرویو دیتے ہیں اور مسلسل متحدہ کے خلاف بولتے ہیں، مگر متحدہ کے معاملے میں وہ خاموش ہیں)۔

یہ ان دونوں حضرات کی خاموش گواہی ہے کہ الطاف حسین  نے کبھی کوئی پیسہ نہیں لیا۔

 

اصغر خان پٹیشن اور جھوٹا الزام کہ ایجنسیوں نے متحدہ کو بنوایا

ای میل چھاپیے پی ڈی ایف

اصغر خان پٹیشن نے جہاں الطاف حسین کے جری  اور نہ جھکنے، نہ بکنے، نہ نظریات کا سواد کرنے والے کردار کو قوم کے سامنے اجاگر کیا، وہیں پر اس جھوٹے الزام کو بھی زمین میں گاڑھ دیا کہ ایجنسیوں نے ایم کیو ایم کو بنوایا ہے۔

متحدہ حاسدین اپنی ہزار ہا کذب بیانی اور بہتان تراشی کے باوجود اس عزت کے تاج کو نہیں چھین سکتے جو اللہ تعالی نے متحدہ اور الطاف حسین کے سر پر سجائی ہے۔ اللہ سے بہترین تدبیر کرنے والا کوئی نہیں اور اللہ ہی کی مدد سے متحدہ کی ذیل کے جھوٹے کیسز سے براۃ ثابت ہوئی۔

۔1۔ جناح پور

۔2۔ حکیم سعد قتل کیس

۔3۔ میجر کلیم کیس

۔4۔ صلاح الدین قتل کیس

۔5۔ مولانا یوسف لدھیانوی قتل کیس

۔6۔ سانحہ نشتر پارک کا جھوٹا الزام

۔7۔ وکلاء کے جلائے جانے کا واقعہ

(ان 7 کیسز کی تفصیلات یہاں ملاحظہ فرمائیں

اس سے قبل ہم اپنے ایک آرٹیکل میں اس جھوٹے الزام پر روشنی ڈال چکے ہیں کہ ایجنسیز نے ایم کیو ایم کو بنوایا۔

یہ ایم کیو ایم کے مخالفین کو چیلنج ہے کہ کوئی ایک ثبوت پیش کر دیں کہ ایم کیو ایم کو   ایجنسیز نے بنایا ہے۔

ایجنسیز کا سب سے بڑا سازشی کردار، عمران خان کا چہیتا، جنرل حمید گل تو کہتا ہے کہ نہ اُس نے ایم کیو ایم کو بنایا اور نہ اسکو کسی ایک بھی ایسی خبر کا علم ہے کہ ایجنسیز نے ایم کیو ایم کو بنایا ہو۔

اور جب ایجنسیز کا یہ سب سے بڑا سازشی کردار حمید گل کہے کہ اسے ایم کیو ایم کے قیام میں کسی ایجنسی کے کرادار کی کوئی خبر نہیں، تو یاد رکھئیے سازشوں کے معاملے میں حمید گل سے زیادہ خبر رکھنے والا ایجنسی کا کوئی اور شخص نہیں ہو سکتا۔

 

ایک حمید گل ہی کیا، آج تک ایک بھی فوجی افسر ایسا نہیں سامنے آیا جس نے دعوی کیا ہو کہ ایجنسیز نے ایم کیو ایم کو بنایا۔ جب جناح پور کا واقعہ ہو یا میجر کلیم کیس ہو، یا حکیم سعید کے قتل کا کیس ہو۔۔۔۔ ان سب معاملات میں انہی ایجنسیز اور جی ایچ کیو کے کئی کئی لوگ آگے بڑھ کر گواہیاں دیتے ہیں کہ ایم کیو ایم ان میں ملوث نہیں، مگر جب متحدہ پر الزام لگایا جاتا ہے کہ ایجنسیز نے اسے بنایا تو ایک شخص، ایک ثبوت بھی نہیں ملتا۔

بات صرف یہ ہے کہ متحدہ کے مخالفین ہندوؤں اور یہودیوں سے بھی بڑے کذاب اور افتراء بازی کرنے والے ہیں اور انکے جھوٹے پروپیگنڈوں کی کوئی حد نہیں۔ جناح پور سے لیکر میجر کلیم کیس، اور عبدالستار ایدھی سے لیکر حکیم سعید قتل کیس، یہ سب کے سب وہ جھوٹے الزامات ہیں جو کہ سالہا سال تک متحدہ کے گلے میں ڈالے جاتے رہے، مگر اللہ کا شکر ہے کہ ان سارے کیسز میں آخری فتح حق کی ہوئی اور وہ آشکار ہو کر قوم کے سامنے آ گیا اور مخالفین رسوا ہوئے۔ 

ایم کیو ایم کے قیام میں تو کسی ایجنسیز کے ہاتھ کا ثبوت نہیں ملتا، مگر اتنا پتا ہے کہ ایم کیو ایم شروع دن سے ضیاء کی مخالف تھی، اور ضیاء صاحب کو مردود سمجھتی تھی۔

اور یہ بھی پتا ہے کہ عمران خان کے چہیتے سازشی کردار حمید گل نے آئی جے آئی بنانے کی سازش کی اور انشاء اللہ جہنم کی آگ میں جانے والے اس رشوت دینے والے نے متحدہ کو پیسے بھجوائے کہ وہ ایجنسیز کا آلہ کار بنتے ہوئے پیپلز پارٹی کی حکومت کے خلاف آئی جے آئی میں شامل ہو جائے، ۔۔۔۔ تو عظیم الطاف حسین نے وہ پیسے اس عمران خان کے چہیتے حمید گل کے منہ پر واپس مارے۔ ایجنسیز سے بغاوت کے اسی جُرم میں پھر مہاجر قوم 90 کی پوری دھائی سزا کاٹتی رہی اور اسکے ہزاروں معصوموں کو ایجنسیز نے ماورائے عدالت قتل کر دیا۔ ان ماورائے عدالت قتل ہونے والوں میں الطاف حسین کے اپنے سگے بھائی ناصر حسین اور سگا بھتیجا عارف حسین شامل ہیں کہ جنہیں پولیس گرفتار کر کے لے گئی، پہلے انتہائی تشدد کا نشانہ بنایا اور پھر لاشیں پھینک کر چلے گئے۔ ذرا بتلائیے تو کون سی ایجنسیز اپنے آلہ کاروں کے رشتے داروں کو قتل کرتی پھرتی ہے؟

اور ایجنسیز کے آلہ کار ہونے کا نمونہ دیکھنا ہے تو وہ حقیقی کی شکل میں موجود ہے کہ جب وہ فوجیوں اور پولیس کی گاڑیوں میں بیٹھ بیٹھ کر آتے تھے اور معصوم مہاجروں کا قتل عام کرتے تھے اور پورے نوے کی دھائی میں کوئی انہیں ہاتھ نہ لگا سکا۔ ایم کیو ایم کے لوگ 90 کی دھائی میں ہونے والے الیکشنز میں کامیابی حاصل کر لیتے ہیں، مگر حقیقی ایجنسیز کی مدد سے ایسے نو گو ایریاز بنائے بیٹھی رہی کہ الیکشن جیتنے کے باوجود ایم کیو ایم کے وہاں کے ایم پی اے اور ایم این اے اپنے علاقوں میں نہیں جا سکتے تھے اور نہ خود کو ووٹ دینے والی اپنی عوام سے مل سکتے تھے۔

اور دوسری طرف حالت یہ ہے کہ الطاف حسین نے جب آئی پی ایم ایس او بنائی، تو اسکی پاداش میں جماعت اسلامی کے غنڈے مسلسل مہاجر سٹوڈنٹس کو مارتے رہے تشدد کا نشانہ بناتے رہے، مگر کسی ایجنسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی کہ جا کر ان مہاجر سٹوڈنٹس کی مدد کریں۔ (جمعیت کے غنڈوں نے عمران خان کی ٹھکائی کی تو اس پر طوفان کھڑا ہو گیا، مگر انکی منافقتیں یہ کہ آج تک انہیں جمعیت کے ہاتھوں مہاجر سٹوڈنٹس تشدد کا نشانہ بنتے ہوئے نظر نہیں آئے)۔

اور پھر انتہا یہ کہ الطاف حسین اور انکے ساتھیوں کو جمعیت نے یونیورسٹی تک سے نکلوا دیا اور یہ مجبور و بے بس و لاچار لوگ اپنے اس قانونی حق تک کا تحفظ تک نہ کر سکے۔ ۔۔۔۔ اور ایجنسیز کا دور دور تک کوئی نام و نشان نہیں کہ انہوں نے آ کر کبھی کسی مہاجر کی مدد کی ہو اور جمعیت کی غنڈہ گردی کے خلاف کوئی ایکشن لیا ہو۔

پھر اگلا مرحلہ آیا جب حیدر آباد جانے والی ریلی پر اکتوبر 1986 میں سہراب گوٹھ کی مافیا نے فائرنگ کر دی جس سے ایم کیو ایم کے بے تحاشہ شرکاء شہید ہو گئے۔ مگر اس پر غضب یہ کہ جب الطاف حسین حیدر آباد کی ریلی سے واپس کراچی پہنچے تو پولیس والوں نے الٹا الطاف حسین کو ہی گرفتار کر لیا اور تین ماہ تک قید میں ایسے تشدد کا نشانہ بنایا کہ الطاف حسین انہیں کہتے تھے کہ خدا کے لیے ایسا تشدد نہ کرو اور مارنا ہے تو بس ایک بار ہی مار دو۔

بتلائیے اگر واقعی ایم کیو ایم ایجنسیز کی پیداوار ہوتی تو پولیس الٹا الطاف حسین کو کیوں گرفتار کرتی اور پھر کیوں انہیں تین ماہ تک مسلسل قید میں اذیتیں پہنچاتی رہتی؟ کیا آپ نے کوئی ایسی ایجنسی دیکھی ہے جو اپنے ایجنٹ کو خود ہی جیل میں یوں اذیتیں دیتی ہو؟

ایک طرف یہ ساری قربانیاں ہیں، اور دوسری طرف اس جھوٹے الزام کا ایک بھی ثبوت نہیں۔

ان مخالفین کے مقابلے میں کراچی کے ہزاروں لاکھوں شہری ہیں جو کہ واقعی کراچی کے وارث ہیں، اور یہ وارثان کراچی ہر الیکشن میں اٹھ اٹھ کر ان مخالفین کے منہ پر جوتا مارتے ہوئے لاکھوں کی تعداد میں متحدہ کو ووٹ دیتے ہیں۔

یہ مخالفین اپنی کذب بیانیوں اور جھوٹے الزامات سے کچھ کو تو بے وقوف بنا سکتے ہیں، مگر سب کو نہیں، اور وارثان کراچی کو تو ہرگز نہیں۔

 

چار گواہیاں: الطاف حسین نے ایجنسیوں سے کبھی پیسہ نہیں لیا

ای میل چھاپیے پی ڈی ایف

اللہ تعالی جسے عزت دینا چاہے، اس پر مخالف حاسدین جھوٹے الزامات لگا کر بھی یہ اللہ کی دی گئی عزت نہیں چھین سکتے۔ جتنا یہ حاسدین جھوٹے الزامات لگائیں گے، اللہ تعالی الطاف حسین کو اتنی ہی اور عزت دے گا۔

ایجنسیز کے تین اہم شخصیات + مہران بینک کے سربراہ  نے گواہی دی ہے کہ دو موقعوں پر انکی عینی موجودگی میں الطاف حسین کو ایجنسیوں نے پیسے لینے کے لیے دباؤ ڈالا، مگر میرا قائد ثابت قدم رہا۔ میں کیوں نہ اپنے قائد پر فخر کروں۔

۔1۔ برگیڈئیر امتیاز

۔2۔ جنرل اسد درانی

۔3۔ کرنل ریٹائرڈ میر اکبر علی خان

۔4۔ یونس حبیب (مہران بینک کے سربراہ)

 

مؤرخہ 8 مارچ 2012 کو جنگ اخبار میں شائع ہونے والی یہ دو خبریں ملاحظہ فرمائیں:۔

 

پہلی خبر:۔

http://search.jang.com.pk/update_details.asp?nid=38882

الطاف حسين نے کبھي کسي ايجنسي يا فرد سے رقم نہيں لي ،تر جمان

Date : 3/8/2012 4:50:00 PM Updated at 16:50 PST

کراچي…متحدہ قومي موومنٹ کے ترجمان نے ايک بارپھرواضح اوردوٹوک الفاظ ميں کہاہے کہ الطاف حسين نے آئي ايس آئي ياکسي سرکاري ايجنسي ياکسي بھي فرد سے ايک پائي بھي نہيں لي اوربعض لوگوں کي جانب سے ان پرلگائے گئے الزامات ميں کوئي صداقت نہيں .اپنے ايک بيان ميں ترجمان نے کہاکہ يہ بات حقيقت ہے کہ سرکاري ايجنسيوں نے قائدتحريک کو باربارخريدنے کي کوشش کي،1988ء ميں آئي ايس آئي کے بريگيڈيئر امتياز، جنرل حميدگل کي جانب سے قائدتحريک کے پاس رقم لے کرآئے ليکن قائدتحريک نے رقم لينے سے صاف انکارکيا،جس کااعتراف بريگيڈيئر امتياز گزشتہ دنوں ميڈيا کے سامنے خود کرچکے ہيں .اسي طرح1990ء ميں بريگيڈيئرحامد، جنر ل مرزااسلم بيگ کي جانب سے قائدتحريک کے پاس رقم ليکرآئے ليکن قائدتحريک الطاف حسين نے وہ رقم بھي لينے سے انکارکياجس کاثبوت آئي ايس آئي کے اس وقت کے سربراہ جنرل اسددراني کاسپريم کورٹ ميں جمع کرايا گيا وہ بيان حلفي ہے جس ميں آئي ايس آئي سے رقم لينے والے ديگر سياستدانوں کے نام شامل ہيں ليکن قائدتحريک الطاف حسين کانام شامل نہيں ، جنرل اسد دراني کايہ بيان حلفي آج بھي سپريم کورٹ کے ريکارڈکاحصہ ہے.ترجمان نے کہاکہ مہران بينک کے سابق سربراہ يونس حبيب کي جانب سے يوسف ايڈوکيٹ نامي شخص کے ذريعے قائدتحريک الطاف حسين کورقم دينے کي بات بھي سراسرجھوٹ اوربہتان ہے اورايم کيوايم اس کي شديدالفاظ ميں مذمت کرتي ہے . ترجمان نے کہاکہ قائدتحريک الطاف حسين کاجرم يہي ہے کہ انہوں نے سرکاري ايجنسيوں اوران کے ايجنٹوں کے ہاتھوں اپنے ظرف وضميرکاسودانہيں کيا جس کي پاداش ميں ماضي ميں بھي ان پرطرح طرح کے الزامات لگائے گئے اورعوام ميں ان کااميج خراب کرنے کي کوشش کي گئي اوراب بھي عوام کوگمراہ کرنے کيلئے ان پر من گھڑت اور بيہودہ الزامات لگائے جارہے ہيں .ترجمان نے کہاکہ ايم کيوايم کي قيادت کادامن پاک اورضميرمطمئن ہے اوروہ ہرفورم پر ان الزامات کا سامناکرنے کيلئے تيارہے.

 

دوسری خبر:۔

تين سياستدانوں کو رقوم دينے کے موقع پر موجود تھا،کرنل ريٹائرڈ اکبر

Updated at 21:30 PST

کراچي… نوے کي دہائي ميں سيات دانوں ميں تقسيم کي گئي رقوم کے عيني شاہد سامنے آگئے ہيں ،کرنل ريٹائرڈ مير اکبر علي خان کا کہنا ہے کہ وہ تين سياست دانوں کو دي گئي رقوم کے عيني شاہد ہيں، اور يہ رقوم جب سياست دانوں کو دي گئيں وہ خود وہاں پر موجود تھے، ان سياست دانوں ميں غلام مصطفي جتوئي، پير پگارا اور الطاف حسين شامل ہيں تاہم ان کا کہنا ہے کہ الطاف حسين نے رقم لينے سے انکار کر ديا تھا.کرنل ريٹائرڈ مير اکبر علي کا کہنا ہے کہ غلام مصطفي جتوئي کو جتوئي ہاؤس ڈيفنس کراچي ميں اور پير پگارا کو کنگري ہاؤس ميں رقوم دي گئيں.کرنل اکبر نے مزيد انکشاف کياہے کہ ملٹري انٹيلي جنس کے بريگيڈيئر سعيد رقوم تقسيم کرنے کے ذمہ دار تھے اور وہ ہي تمام اکاؤنٹس سنبھالتے تھے .

 

چوتھی گواہی:۔

http://m.geo.tv/NewsDetail.aspx?ID=38890

Never said money was given to Altaf Hussain: Younis Habib

19:53 PST 08-03-2012

ISLAMABAD: The former head of Mehran Bank, Younis Habib said on Thursday that he never said that money was given to MQM chief Altaf Hussain.

Speaking to Geo News, Habib further said that Rs 70 million was distributed through Yousuf Memon Advocate. This money was given to those politicians who did not want to receive funds through the ISI.

Habib added that instructions were given to him by General Baig and the President. From the Rs 70 million, Yousuf Advocate gave Rs 1.5 million to Ijaz-ul-Haq, while Rs 40 million was given to Javed Hashmi.

“I was not told if payments had been made to Altaf Hussain,” Habib added.

 

حیدر عباس رضوی اور اجمل پہاڑی پر عاشورہ بم بلاسٹ کے الزام کا پردہ چاک

ای میل چھاپیے پی ڈی ایف

اے اہل وطن،

کیا تمہیں یاد ہے کہ طلعت حسین نے اپنے شو میں اجمل پہاڑی کی اس جی آئی ٹی رپورٹ کے حوالے سے الزام لگایا تھا کہ:

1۔ عاشورہ کا یہ بم دھماکہ متحدہ نے خود کروایا ہے، اور اسکے بعد کراچی میں دکانوں کو لوٹنے کا پروگرام بھی متحدہ کی پلاننگ تھی اور اس لوٹ مار میں متحدہ کے ایک سو اراکین نے حصہ لیا جس میں اجمل پہاڑی بھی شامل تھا اور جی آئی ٹی رپورٹ میں اس نے اسکا اعتراف کیا۔

2۔ اور اس دھماکے اور لوٹ مار کے پروگرام کی ساری پلاننگ اور نگرانی حیدر عباس رضوی صاحب کر رہے تھے۔

دیکھیے طلعت حسین کے پروگرام کی مکمل ویڈیو اس لنک پر

اس پروگرام کے بعد لشکرِ جھنگوی اور تحریک طالبان نے دعوی کرنا شروع کر دیا تھا کہ کراچی میں جتنے فرقہ وارانہ قتل و غارتگری ہوئی ہے، وہ سب کی سب متحدہ کی سازش کی وجہ سے ہوا ہے اور متحدہ نے تمام کا تمام خون بہایا ہے، وگرنہ لشکرِ جھنگوی تو امن پسند جماعت ہے جو دہشتگردی میں یقین نہیں رکھتی۔

۔۔۔۔ مگر۔۔۔۔۔

آج اس جھوٹ کا پردہ چاک ہو گیا اور پنجابی تحریک طالبان کے اصل خونی درندے پکڑے گئے۔

 

ہم نے اپنے پچھلے کالم میں لکھا تھا (لنک):

نیٹ پر موجود اجمل جی آئی ٹی رپورٹ میں عاشورہ کا یہ واقعہ سرے سے موجود ہی نہیں

اور انتہائی حیرت انگیز بات ہے کہ نیٹ پر اجمل پہاڑی کی جو جی آئی ٹی رپورٹ موجود ہے، اس میں دور دور تک کہیں بھی عاشورہ کا یہ واقعہ بیان نہیں ہوا ہے۔  اس پر چھ چھ ایجنسیوں کے سائن موجود ہیں، مگر عاشورہ کا واقعہ ندارد

اجمل کی نیٹ پر جی آئی ٹی رپورٹ کا لنک

نیٹ پر موجود یہ جی آئی ٹی رپورٹ انگلش میں ہے، اور اس میں ہر ہر جرم کی تفصیل درج ہے، صفحات میں بھی مکمل ربط اور تسلسل قائم ہے۔ مزید براں یہ سمجھ میں آنے والی بات نہیں کہ عاشورہ بم بلاسٹ جیسے اہم واقعہ کو اس انگلش جی آئی ٹی میں شائع نہ کیا جائے۔

چنانچہ طلعت حسین کو اب بتلانا پڑے گا کہ اسکے پاس اجمل کی یہ دوسری جی آئی ٹی رپورٹ کہاں سے آئی۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی اسکا حساب دینا پڑے گا۔

اجمل پہاڑی کی جی آئی ٹی رپورٹ یا جھوٹے الزامات کا پلندہ؟

اجمل کی جی آئی ٹی یہ پوری رپورٹ گھڑے گئے جھوٹ پر مشتمل ہے، اور جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے۔

کراچی ٹارگٹ کلنگ ویب سائیٹ نے ان میگا بلنڈرز کا پردہ چاک کیا ہے۔

  • اس رپورٹ میں دکھایا گیا ہے کہ اجمل صاحب نے اعتراف کیا ہے کہ وہ میجر کلیم کا قاتل ہے۔مگر یہ ناممکن ہے اور مضحکہ خیز بات ہے کیونکہ میجر کلیم صاحب ابھی تک زندہ ہیں۔ تو بتلائیے کہ اجمل صاحب ایک ایسے شخص کو کیسے قتل کر سکتے ہیں جو کہ ابھی تک زندہ ہے؟

  • اس رپورٹ میں دکھایا گیا ہے کہ اجمل صاحب نے اعترف کیا ہے کہ انہوں نے متحدہ کے دو سینٹرز نشاظ ملک اور مصطفی کمال رضوی کو سن 2002 میں قتل کیا ہے۔ مگر اجمل صاحب اخباری رپورٹوں کے مطابق سن 2000 میں گرفتار ہو گئے تھے اور سن 2005 میں جا کر انہیں آزاد کیا گیا۔

  • اس رپورٹ میں دکھایا گیا ہے کہ اجمل صاحب نے تکبیر کے مدیر صلاح الدین کا 1999 میں قتل کا اعتراف کیا ہے۔ مگر صلاح الدین کی صاحبزادی، محترمہ سادیہ انجم نے اپنے والد کے قتل کا الزام براہ راست اپنے سابق شوہر رفیق افغان کو ٹہرایا ہے جو کہ امت اخبار کا موجودہ ایڈیٹر ہے۔ سادیہ انجم صاحبہ نے رفیق افغان پر اپنے والد کے قتل کا الزام لگاتے ہوئے بتلایا ہے کہ رفیق افغان انکے سیٹ اپ پر قبضہ چاہتا تھا اور اسی لیے انہوں نے رفیق افغان سے علیحدگی بھی اختیار کی تھی۔

  • اور اس رپورٹ میں دکھایا گیا ہے کہ اجمل صاحب نے جماعت اسلامی کے بن قاسم کے امیر مرزا لقمان بیگ کے قتل کا بھی اعتراف کیا ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ لقمان بیگ کو لانڈھی میں 1999 میں مسجد میں ایک تنازعہ پر قتل کیا گیا تھا۔ اس اس FIR سے واضح ہے جو کہ 1999 میں لانڈھی پولیس سٹیشن میں جماعت اسلامی کے لیڈر اسلم مجاہد کی طرف سے داخل کی گئی تھی، جو کہ اس مسجد کے ٹرسٹی تھے۔ مجاہد صاحب نے اس FIR میں مسجد کے ایک اور ٹرسٹ ممبران کو بطور مرزا لقمان بیگ کے قاتل کے طور پر الزام دیا تھا۔ ان ممبران کے نام تھے اشرف علی، ماجد، لڈن، شاہد اور اشتیاق اور یہ سب کے سب ایم کیو ایم حقیقی سے وابستہ تھے اور ان کے پاس اُس وقت (سن 1999 میں) لانڈھی کے علاقے پر مکمل کنٹرول تھا۔ اور کراچی میں ہر کوئی جانتا ہے کہ اس عرصہ میں لانڈھی کا علاقہ متحدہ کے لیے نو گو ایریا بنا ہوا تھا

سچ ہے کہ جھوٹ کے کوئی پاؤں نہیں ہوتے۔

 

سب سے بڑا جھوٹ: متحدہ اپنے کارکنوں کو پاکستان سے غداری پر اکساتی ہے

یہ جی آئی ٹی رپورٹیں کیسے بنائی جاتی ہیں، اسکا اندازہ آپ کو اس جھوٹ سے ہو جائے گا۔

یہ لنک ہے اجمل صاحب کی اس ویڈیو کا جو کہ جی آئی ٹی ٹیم نے پیش کی ہے۔

http://www.youtube.com/watch?v=GgOs7XTdaNo&feature=player_embedded

آپ اسے 6:35 سے آگے سن سکتے ہیں جس میں اجمل پہاڑی صاف صاف کہہ رہا ہے کہ الطاف حسین اور متحدہ کی جانب سے آج تک پاکستان توڑنے کی بات نہیں ہوئی اور نہ ہی ایسا کوئی لٹریچر آج تک بانٹا گیا ہے۔ بلکہ اسکی جگہ پارٹی انہیں صلاح الدین ایوبی اور نسیم حجازی کی کتابیں پڑھا کر تربیت کرتی ہے۔

مگر جی آئی ٹی کی اس ویڈیو کے مقابلے میں انکی اپنی تحریری رپورٹ ہے، جس میں یہ اجمل پہاڑی پر الزام لگا رہے ہیں کہ وہ کہہ رہے کہ متحدہ قیادت کی طرف سے کارکنوں کو لٹریچر فراہم کیا جاتا تھا کہ پاکستان کو توڑنا ہے اور الگ ریاست بنانی ہے۔

یہ دیکھئِے اس رپورٹ کا عکس:

اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ایسی جی آئی ٹی رپورٹ کی کیا حیثیت ہوتی ہے اور وہ کس طرح جھوٹے الزامات لگا کر متحدہ کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ذرا بتلائیے کہ کیسے ممکن ہے کہ ملک کی چھ ایجنسیاں اس رپورٹ پر بغیر پڑھے سائن کر دیں؟

 

 

MQM should present Bill for Officially recognition of Word Mahajir

ای میل چھاپیے پی ڈی ایف

It is one of the most important duty of MQM to present the Bill in National Assembly to officially recognize the word “Mahajir”.

A "Culture" needs a "Name"

Culture consists of things like "mother language", cooking of different dishes, the customs etc.

There are 5 major Cultures in Pakistan

1. Punjabi Culture (.... people who belong to this Culture, they are known as PUNJABIES)
2. Sindhi Culture
3. Pushtoon Culture
4. Baloochi Culture
5. Kashmiri Culture

Then there are sub-cultures like:

1. Saraiki culture
2. Barahwi culture
3. Hazara culture
4. Kafiristani culture etc.

All these "Cultures" have separate "Names" through which they are recognized. 

The people, who migrated and came from India, they have also a specific Culture, which consists of language, Cooking style, customs etc. 

The biggest mistake was to not to give a specific NAME to this separate Culture at time of creation of Pakistan, through which this Culture could have been recognized.

In 1951 Constituion, the name of these People was officially given as "Muhajirs". Since then this name carried on and still exist today.

Question: What name should have been given to People who migrated from India?

Name of Culture is give on Two bases basically:

1. Area (from where People came)

In case of people, who migrated from India, then name should have been "Hindustani" or "Hindustani Muslims". But this name of this culture was not accepted to us as we hate Hindu and India.

2. Language

This culture could have got the name of "URDUSTANI" on bases of their language being "Urdu".

But URDU became the "National" language of Pakistan (including Banglades). Therefore all of us became "Urdustani" too and thus this name could have also not been given to them.

Therefore, the name "Muhajirs" carried on for these People and their culture.

The alternative names given to them were:

1. Hindustoray
2. Bhaiyya
3. Tillar
4. Makar

In comparison to these names, the name MUHAJIR was much more respectable and thus it continued. 

Difference between "Literal" meanings and "Terminology"

Therefore, now the word "Muhajir" has lost it's literal meaning and it has become a TERM which represents a set of people with specific language, Dishes, customs etc.

4th Generation of Pakistanies still known as "Pakistanies" in England

Although this 4th Generation is English, but due to their specific custom and language, they are still known as "Pakistanies". It is due to the Universal Human Nature that every Culture needs a Name to be recognized.

Please give an Alternative name to People who migrated from India

Till the time their culture exists, you have to give any name to them. 

We have only following 2 Options:

1st: To give them an alternative Name which is acceptable to them and others too. Please think about it and suggest.

2nd: Or to start understanding that Muhajirs has lost it's literal meaning and it has been used now as "Terminology".

Coclusion:

MQM should present a Bill in National Assembly that this word Mohajir should be officially recognized as Terminology for representing the culture of people who migrated from India.

Or MQM should ask the people from Pakistan to suggest such new name of this Culture, which is acceptable to all.

Till the time, the nation agrees upon this new name, word Mohajir should be officially recognized as Terminology to represent this community.

 

ذوالفقار مرزا اور عمران خان لندن عدالت کی بجائے اپنی آزاد عدلیہ میں ثبوت پیش کیوں نہیں کرتے؟

ای میل چھاپیے پی ڈی ایف

بہت حیرت ہوتی ہے جب عمران خان اور ذوالفقار مرزا جیسے لوگوں کا پاگل پن سامنے آتا ہے کہ اپنی آزاد عدلیہ کے پاس ثبوت لے جانے کی بجائے وہ لندن کی عدالت کا رخ کر رہے ہیں۔
اور جب لندن کی عدالت میں انہیں جوتے پڑتے ہیں اور انکا مقدمہ تک درج نہیں ہو پاتا تو پھر یہ اپنا جھوٹا منہ چھپانے کی خاطر جھوٹے بہانے لے کر آ جاتے ہیں کہ لندن عدالت کو گواہوں سے ملنے نہیں دیا جا رہا۔
تو سوال یہ ہے کہ اگر لندن عدالت میں گواہ پیش نہیں ہو پا رہے تو پھر آپ کے پاگل پن کا کوئی ثانی ہی نہیں کہ آپ اپنی پاکستانی آزاد عدالت میں ثبوت پیش نہیں کر رہے۔ نہ عمران خان نے یہ کیا اور نہ ذوالفقار مرزا نے۔
اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ یہ دونوں صرف سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے لندن کا ڈرامہ کھیل رہے ہیں۔ 
یہ سوال کئی سال سے عمران خان کے چہیتوں سے کیا جا رہا ہے، مگر انکی حالت یہ ہے کہ جواب دینے کی بجائے اس سوال کے آتے ہی اپنا منہ اپنی بغل میں داب لیتے ہیں اور وہیں سے پھر جواب دینے کی بجائے متحدہ کے خلاف گالیاں دینا شروع کر دیتے ہیں۔ 
اب ایک مرتبہ پھر یہی سوال متحدہ مخالفین کے سامنے آن کھڑا ہوا ہے کہ ذوالفقار مرزا آپکی آزاد عدالت میں اپنے ساری وزارت کے عرصے اور اسکے بعد کے عرصے کے دوران کیوں نہیں گئے؟

 

عامر خان کو معاف کرنے پر متحدہ پر اعتراضات و الزامات کا تجزیہ

ای میل چھاپیے پی ڈی ایف

<meta name="google-site-verification" content="bVK7iXFwyyu0fZgYTmGy5K11MpSNKcAkcnFLHymcDh0" />

آجکل مخالفین نے آسمان سر پر اٹھایا ہوا ہے کہ متحدہ نے عامر خان کو معاف کیوں کیا ہے۔ ہر طرح کے اعتراضات و الزامات کا استعمال ہو رہا ہے کہ متحدہ اپنے شہیدوں کا خون بھول گئی ۔۔۔ بلکہ یہ الزامات کہ متحدہ جان بوجھ کر اپنے لوگوں کو قتل کرواتی ہے تاکہ ہمدردی حاصل کر سکے وغیرہ وغیرہ۔

ان مخالفین کا حساب یہ ہے کہ خود پر ہزار خون بھی ہوں تو وہ معاف رکھتے ہیں، لیکن ہمارا کوئی حلال کام بھی دنیا کا عظیم ترین جرم بن جاتا ہے۔

قرآن کہتا ہے:

وَإِن طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا

ترجمہ:۔ اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں قتال کرنے لگیں تو اُن کے درمیان صلح کرا دیا کرو

انفرادی جرائم عدالتوں میں حل کیے جاتے ہیں، مگر جہاں بات دو بڑے بڑے گروہوں کی آ جاتی ہے تو وہاں مسائل "معاہدوں" کی صورت میں طے ہوتی ہے۔

آفاق کا فیصلہ آ گیا اور یہ بات تو طے ہے ریاستی دہشتگردی کرنے والی اس وقت کی شعیب سڈل کی پولیس نے اپنے خلاف کوئی ثبوت نہیں چھوڑے۔ چنانچہ عدالتوں میں انصاف ملنے کی تو امید نہیں۔

ایک صورت یہ ہے کہ دشمنی جاری رکھی جائے اور خون بہتا رہے، ذولفقار مرزا جیسے لوگ انہیں استعمال کر کے اپنے مقاصد حاصل کرتے رہیں۔

دوسری صورت یہ ہے کہ معاہدہ کر لیا جائے اور اس مسلسل بہنے والے خون کی روک تھام ہو، اور یہ ہی قرآن کا پہلا پیغام ہے کہ دو گروہوں میں صلح کروا دو۔

اس دوسری صورت کا فائدہ یہ ہوا ہے کہ کئی سو لوگ اپنا فتنہ فساد چھوڑ کر عامر خان کے ساتھ آ گئے ہیں۔ بلکہ آفاق کے بھی بہت لوگ اسے چھوڑ گئے ہیں۔

امن کی خاطر رسول اللہ (ص) نے یہودیوں تک سے معاہدے کیے۔ بلکہ یہودیوں کو چھوڑیں، امن کی خاطر رسول اللہ (ص) نے کفارِ مکہ تک سے صلح حدیبیہ کیا۔ اب کیا آپ معاذ اللہ رسول اللہ (ص) پر بھی الزام لگائیں گے کہ وہ جنگ بدر و احد وغیرہ میں اپنے شہید ہونے والے اصحاب کا خون بھول گئے؟

یہ مخالفین عمران خان کی اس منافقت کے متعلق کیا کہیں گے کہ طالبان کے ہزار خون خرابے اور قتل و غارت کے باوجود عمران خان انہیں "طالبان ہمارے بھائی" کہتے ہوئے گلے لگانے کے لیے تیار ہے ۔۔۔ انکے تمام تر قتل و غارت کو بھول جانے کے لیے تیار ہے؟ 
اسی لیے عمران خان چیخ چیخ کر سوات معاہدے جیسے احمقانہ فیصلے کے لیے میڈیا کو آسمان پر اٹھائے ہوئے تھا اور سوات کا پورا علاقہ بمع اسکے مکینوں کے طالبان کو تھالی میں رکھ کر پیش کر دیا گیا۔ تو کہاں گیا اس وقت عمران خان کا انصاف؟ کیا طالبان کے قتل و غارت کا حساب عمران نے لے لیا تھا؟ 
اور عمران خان کی اس حماقت کا خمیازہ قوم نے اس صورت میں بھگتا کہ طالبان نے امن معاہدے کے بعد سینکڑوں معصوموں کو مزید قتل کر ڈالا۔ طالبان کے ساتھ ساتھ عمران خان بھی ان معصوموں کے خون کا ذمہ دار ہے۔
اور عمران کی اس حماقت کی وجہ سے دس لاکھ افراد اپنے گھروں سے دربدر ہو کر پورے پاکستان میں ٹھوکریں کھاتے پھر رہے تھے۔ 
افسوس کہ مخالفین کو عمران کی یہ منافقت نظر آتی ہے اور نہ یہ حماقت۔

عمران خان کے بے وقوفی اور حماقت تھی کہ طالبان کے ہتھیار رکھوائے بغیر اور ان  سے سرے سے کوئی معاہدہ کیے بغیر اس نے سوات کا پورا علاقہ طالبان کے حوالے کر دیا۔ 
اسکے مقابلے میں متحدہ ہے، جس نے حقیقی سے توبہ تائب کروائی، ان سے معاہدہ کیا اور انکا فتنہ ختم کیا۔ 
حیرت کی بات ہے کہ عمران کی بے وقوفی و حماقت کے باوجود اسکی تعریفوں کے پل باندھے جاتے ہیں، مگر متحدہ کے اس دانشمندانہ رویے کے باجود اس پر اعتراضات اور الزامات کا تانتا باندھ دیا جاتا ہے۔  

ہشتم: منیر احمد بلوچ صاحب کا آرٹیکل پڑھئیے جہاں وہ تفصیلات بیان کر رہے ہیں کہ کیسے پاکستان کی اپنی تاریخ میں مختلف بڑے گروہوں سے معاہدے کر کے انکے خلاف بنائے گئے ہزاروں کیسز معاف کیے گئے ہیں۔
مثلا: 
مؤرخہ 9 ستمبر 2010 کی بات ہے، وزیر اعظ یوسف رضا گیلانی نے قومی اسمبلی کے فلور پر بلوچستان پیکج کے تحت اعلان کیا کہ بلوچ تنظیموں، بلوچستان کے سرداروں، انکی سیاسی جماعتوں کے تمام کارکنوں کیخلاف درج قتل، اغوا، زنا، سرکاری دفاتر اور گاڑیاں جلانے، ریلوے پلوں، آبادکاروں کو قتل کرنے، فوج اور ایف سی پر حملے کرنے کے اربوں روپے مالیت کی گیس اور بجلی کی پائپ لائنیں اور کھمبے تباہ کرنے، ریلوے مسافروں پر فائرنگ کرنے کے الزام میں درج تمام مقدمات ختم کئے جاتے ہیں۔

کہاں ہے اب عمران خان؟ کیوں اسکے منہ سے اسکے خلاف ایک "لفظ" تک نہیں نکلا؟ اگر یہ سارے مقدمات عدالت میں تھے تو پھر عمران خان نے آواز کیوں نہ اٹھائی کہ عدالتوں کو ہی یہ کیسز حل کرنے دیے جائیں تاکہ وہی "انصاف" ہو سکے جسکے متعلق وہ ایم کیو ایم کے معاملے میں چیخ و پکار اٹھائے ہوتا ہے؟  افسوس کہ ساری منافقتیں اُسی وقت ظاہر ہوتی ہیں جب معاملہ ایم کیو ایم کا آتا ہے۔
اب ہمیں بھی پورا حق ہے کہ آپ سے پوچھیں کہ کیا عمران خان  بلوچستان میں بہنے والے اس معصوم خون کو کیوں بھول گیا؟ عمران خان سوات میں طالبان کے ہاتھوں بہنے والے معصوم خون کو کیوں بھول گیا؟

مزید منافقانہ رویہ آپ لوگوں کا وہ ہے جب آپ نے بلوچ علیحدگی پسندوں کے تمام تر مقدمات معاف کر دیے اور عمران خان اور آپ لوگوں کے منہ سے اسکے خلاف ایک لفظ بھی نہیں نکلا۔ اگر آپ لوگوں کا منہ کھلتا ہے تو فقط اور فقط متحدہ کے خلاف کھلتا ہے۔ یہ منافقت نہیں تو اور کیا ہے؟ 
اور منافقت (ڈبل سٹینڈرڈز) کی انتہا بھلا کیا ہو گی جب عمران خان حقیقی کے قاتل دہشتگردوں کو عدالت کے سپرد کرنے کی بجائے اپنی گود میں بٹھائے ہوئے ہے اور حقیقی کے ان دو گروہوں کی آپس میں دوستی کروا رہا تھا۔ ۔ یہ ہے نہج المنافقت کہ ہم پر عامر کی معافی معانگنے کے بعد بھی الزامات، مگر عمران جو بغیر کسی معافی کے عامر اور آفاق دونوں گروہوں کو گود میں بٹھا رہا ہے، وہ عین حلال۔

دیکھئیے عمران خان حقیقی کو اپنی گود میں بٹھائےہوئے ہے۔

عمران کو انکا کوئی قتل و غارت یاد نہیں آیا، بلکہ وہ پوری کوشش کر رہا ہے کہ حقیقی کے دونوں گروہوں میں اختلافات ختم کروا کر انہیں متحد کر دے۔ اس ملاقات کی پوری خبر آپ یہاں پڑھ سکتے ہیں۔

اس خبر کے مطابق "آفاق گروپ" عمران خان کے زیادہ نزدیک ہے۔

نتیجہ:

یہ مخالفین اپنے آپ پر ہزار خون بھی معاف رکھیں گے، مگر ہمارے حلال کام کو بھی عظیم ترین جرم بنا کر پیش کریں گے۔

 

امت کذاب اخبار کا الزام: الطاف حسین نے بزنس کمیونٹی سے اسلحہ کے لیے پیسہ طلب کیا

ای میل چھاپیے پی ڈی ایف

امت کذاب اخبار نے مؤرخہ  ستمبر 2011 کو ایک آرٹیکل شائع کیا ہے جس میں جھوٹ کے انبار کھڑے کر دیے گئے ہیں (آرٹیکل کا لنک)۔ اس آرٹیکل کی شہ سرخی ہے "اسلحہ خریدنے کے لیے الطاف حسین نے ڈیفنس اور کلفٹن کے تاجروں سے رقم مانگی"۔ امت اخبار نے اس خبر کا ماخذ امت کذاب نے "وکی لیکس" کو قرار دیا ہے۔

مگر یہ وکی لیکس اپنی اصل حالت میں ویب سائیٹ پر موجود ہے۔ اس اصل وکی لیکس کو پڑھنے پر امت کذاب کے جھوٹ کے یہ انبار صاف پکڑے گئے اور الطاف حسین نے کہیں بزنس کمیونٹی سے اسلحہ کے لیے کوئی پیسہ طلب نہیں کیا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔
 

سوال: اہلیان کراچی کیوں اپنا اسلحہ ختم کریں؟

ای میل چھاپیے پی ڈی ایف

اہل وطن سے سوال:

سن 1990 تک ایم کیو ایم کے پاس اسلحہ آنے تک اہلیان کراچی کے ساتھ جو کچھ ہوتا رہا، اسے بقیہ ہم وطن تو ڈکار مارے بغیر ہضم کر جاتے ہیں اور انکے کانوں پر ہمارے بہنے والے خون پر جوں تک نہیں رینگتی، مگر ہم اہلیان کراچی اس بات کو نہیں بھول سکتے۔

ہم اب بھی سوال کرتے ہیں کہ سہراب گوٹھ ام الفتن کے اسلحے و لینڈ مافیا و جرائم کے خلاف کتنے آپریشن کیے گئے؟

پھر 1986 میں آخر کار آپ کی ان اندھی آنکھوں اور بہرے کانوں کے قصور کی وجہ سے سانحہ قصبہ اور علیگڑھ کالونی پیش آیا جس میں 300 سے زائد افراد کو مسلح جرائم پیشہ افراد نے چند گھنٹٔوں میں بھون کر رکھ دیا، سینکڑوں کو زخمی کیا، گھروں کو لوٹا گیا، اور بھی ہوا جو بیان نہیں کیا جا سکتا۔

کیوں؟

اس وقت 1986 تک تو آپ کا یہ بہانہ بھی نہیں چل سکتا کہ ایم کیو ایم کے اسلحہ یا بدمعاشی کی وجہ سے یہ ہوا۔

اس کیوں کا جواب اہل وطن پر ادھار ہے۔

اگر انصاف مہیا ہو جاتا اور سہراب گوٹھ کے سنپولیے کو اُسی وقت کچل دیا جاتا تو نہ ایم کیو ایم کبھی ہتھیار اٹھاتی، اور نہ اہلیان کراچی میں مقبول ہو پاتی۔

آج تک آپ لوگوں نے اپنا قصور مانا تک نہیں۔

***************************

سن 1990 تک ایم کیو ایم کے ہتھیار اٹھانے سے قبل کی بہت لمبی تاریخ ہے جسے اہلیان وطن ہمیشہ ڈکار مارے بغیر ہضم کر جانا چاہتے ہیں، مگر یہ ممکن نہیں۔

اسکے بعد جب ہم نے اسلحہ اٹھایا تب بھی اہل وطن کو سہراب گوٹھ ام الفتن نظر آیا، اور نہ لیاری کے جرائم پیشہ افراد۔

متعصب جنرل آصف نواز نے "جرائم" کے خلاف آپریشن شروع کیا تو وہ فقط اور فقط ایم کیو ایم کے خلاف تھا۔

کیوں؟

یہ منافقت کیوں؟

پھر اس منافقت کو اتنا طول دیا گیا کہ 1992 سے لیکر 1999 تک یہ طویل ریاستی دہشتگردی جاری رہی۔ اس دوران "ہزاروں" لوگ اس ریاستی دہشتگردی کی نظر ہوئے، مگر اس ریاستی دہشتگردی میں ماورائے عدالت قتل کیے جانے والوں کے خون کا کوئی حساب ہے، نہ اسکے خلاف اہلیان وطن کی طرف سے کوئی آواز نکلتی ہے، نہ عدالت اسکے خلاف کیس اٹھاتی ہے۔۔۔۔۔ نہ شعیب سڈل جیسے ریاستی دہشتگردی کرنے والوں کو گرفتار کیا جاتا ہے۔۔

**************************

پھر مشرف اور متحدہ کا دور آتا ہے۔

اس دور میں پشتون کمیونٹی کو قتل کیا گیا اور نہ سندھی اور نہ پنجابی کمیونٹی کی ٹارگٹ کلنگ ہوئی۔ نہ ہی جماعت اسلامی یا پیپلز پارٹی یا اے این پی کسی بھی سیاسی جماعت کے کارکنوں پر جھوٹے مقدمات بنے اور نہ انہیں گرفتار کر کے ان پر تشدد کیا گیا اور نہ انکی ٹارگٹ کلنگ ہوئی۔

*************************

آج کی تاریخ میں آتے ہیں۔

آج بھی اہلیان وطن کی تمام تر آواز، تمام تر رونا پیٹنا، تمام تر اقدامات، تمام تر منافقتیں متحدہ کے خلاف ہیں۔

مگر یہ پھر بھی اندھے بہرے بنے رہے اور انہیں نظر نہیں آیا کہ کس طرح سہراب گوٹھ اور لیاری کے جرائم پیشہ افراد کی سرکاری سرپرستی کی جا رہی ہے، قانونی اور غیر قانونی اسلحے کی بھرمار کی جا رہی ہے۔

اہلیان وطن کے اسی اندھے پن کی وجہ سے کراچی میں اتنے بڑے پیمانے پر قتل عام ہوا اور ان مرنے والوں میں 75 فیصد سے زائد ہم لوگ ہیں۔

یہ کیسے ممکن ہو گیا؟

یہ کیسے ممکن ہو گیا کہ اکثریت میں ہوتے ہوئے بھی 75 فیصد ہم لوگ ہی مارے گئے؟

یہ کیسے ممکن ہو گیا کہ سب سے بڑے بدمعاش کا الزام پانے کے باوجود ہم ہی ان مارے جانے والوں کا 75 فیصد ہیں؟

کیا ایکدم سے آسمان سے دہشتگرد فرشتوں کی فوج نازل ہوئی جس نے ان 75 فیصد لوگوں کو قتل کیا؟

نہیں، یہ 75 فیصد لوگ اس لیے نہیں مرے کہ فرشتوں کی فوج نازل ہوئی۔۔۔۔ بلکہ یہ 75 فیصد لوگ اس لیے مرے کیونکہ ایم کیو ایم جن برائیوں کے ردعمل میں وجود میں آئی، اسے اہلیان کراچی کی سپورٹ ملی۔۔۔۔ وہ سب عوامل اور برائیاں آج بھی معاشرے میں جوں کی توں موجود ہیں مگر اہلیان وطن اُس وقت بھی ان سے اندھے بہرے بنے بیٹھے رہے، اور آج بھی اندھے بہرے بنے بیٹھے ہیں۔

اہلیان کراچی کا سوال:۔

ہم اسلحہ کیوں نہ اٹھائیں؟

اس اسلحہ کے باوجود آج 75 فیصد ہم لوگ مارے جاتے ہیں۔ اگر یہ اسلحہ بھی ختم ہو گیا تو پھر مرنے والوں کی تعداد کئی گنا بڑھ جائے گی اور ہم مکمل طور پر سہراب گوٹھ اور پہاڑ والوں اور لیاری کے جرائم پیشہ افراد کے رحم و کرم پر رہ جائیں گے۔

بقیہ اہل وطن کو ہمارا یہ اسلحہ اچھا لگے یا برا، مگر ہم اپنے آپ کو آپ لوگوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتے کیونکہ آپکے انصاف کی موت ہو چکی ہے۔

ہمیں بھی جنگ سے زیادہ امن پسند ہے۔ اگر کراچی میں بغیر کسی تفریق کے آپریشن ہوتا ہے تو اسے خوش آمدید اور سب سے اسلحہ واپس لے لو۔ مگر اگر آپ لوگوں نے اپنی منافقت دکھاتے ہوئے پھر نوے کی دہائی والی ناانصافی دہرانی چاہی تو پھر معذرت کہ ہمیں آپ کی ناانصافی کے ہاتھوں مرنا منظور نہیں۔

کیا گارنٹی ہے کہ کل کو پھر سے ذولفقار مرزا (آپکے ہیرو) جیسا شخص دوبارہ وزیر داخلہ بن کر ہماری قسمتوں کا مالک نہیں بن جاتا؟ آپ کے اسی ہیرو ذولفقار مرزا کی وجہ سے یہ 75 فیصد لوگ مارے گئے ہیں اور اسکی حرکتوں پر اندھے بنے رہے۔ ہم لوگ چیخ چیخ کر مر گئے کہ ذولفقار مرزا سہراب گوٹھ اور لیاری کے جرائم پیشہ افراد کو سرکاری سرپرستی میں طاقتور بنا رہا ہے، مگر آپ کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی اور ذولفقار مرزا کی اسی حرکت کی وجہ سے یہ یہ 75 فیصد لوگ مارے گئے۔

نوٹ:۔

آج بھی اہلیان وطن کا سارا کا سارا زور اور رونا دھونا متحدہ کے گرفتار شدہ اراکین پر ہے۔۔۔۔ مگر ان میں سے کوئی ان مرنے والے 75 فیصد لوگوں کے خون کا ذکر نہی کرتا اور نہ وہ "وجوہات" بیان کرتا ہے جس کی وجہ سے یہ 75 فیصد لوگ مارے گئے۔

 

اجمل جی آئی ٹی کی جھوٹی گھڑی ہوئی رپورٹ میں مزید میگا بلنڈرز کا پردہ چاک

ای میل چھاپیے پی ڈی ایف

اجمل کی جی آئی ٹی یہ پوری رپورٹ گھڑے گئے جھوٹ پر مشتمل ہے، اور جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے۔

کراچی ٹارگٹ کلنگ ویب سائیٹ نے ان میگا بلنڈرز کا پردہ چاک کیا ہے۔

  • اس رپورٹ میں دکھایا گیا ہے کہ اجمل صاحب نے اعتراف کیا ہے کہ وہ میجر کلیم کا قاتل ہے۔مگر یہ ناممکن ہے اور مضحکہ خیز بات ہے کیونکہ میجر کلیم صاحب ابھی تک زندہ ہیں۔ تو بتلائیے کہ اجمل صاحب ایک ایسے شخص کو کیسے قتل کر سکتے ہیں جو کہ ابھی تک زندہ ہے؟

  • اس رپورٹ میں دکھایا گیا ہے کہ اجمل صاحب نے اعترف کیا ہے کہ انہوں نے متحدہ کے دو سینٹرز نشاظ ملک اور مصطفی کمال رضوی کو سن 2002 میں قتل کیا ہے۔ مگر اجمل صاحب اخباری رپورٹوں کے مطابق سن 2000 میں گرفتار ہو گئے تھے اور سن 2005 میں جا کر انہیں آزاد کیا گیا۔

  • اس رپورٹ میں دکھایا گیا ہے کہ اجمل صاحب نے تکبیر کے مدیر صلاح الدین کا 1999 میں قتل کا اعتراف کیا ہے۔ مگر صلاح الدین کی صاحبزادی، محترمہ سادیہ انجم نے اپنے والد کے قتل کا الزام براہ راست اپنے سابق شوہر رفیق افغان کو ٹہرایا ہے جو کہ امت اخبار کا موجودہ ایڈیٹر ہے۔ سادیہ انجم صاحبہ نے رفیق افغان پر اپنے والد کے قتل کا الزام لگاتے ہوئے بتلایا ہے کہ رفیق افغان انکے سیٹ اپ پر قبضہ چاہتا تھا اور اسی لیے انہوں نے رفیق افغان سے علیحدگی بھی اختیار کی تھی۔

  • اور اس رپورٹ میں دکھایا گیا ہے کہ اجمل صاحب نے جماعت اسلامی کے بن قاسم کے امیر مرزا لقمان بیگ کے قتل کا بھی اعتراف کیا ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ لقمان بیگ کو لانڈھی میں 1999 میں مسجد میں ایک تنازعہ پر قتل کیا گیا تھا۔ اس اس FIR سے واضح ہے جو کہ 1999 میں لانڈھی پولیس سٹیشن میں جماعت اسلامی کے لیڈر اسلم مجاہد کی طرف سے داخل کی گئی تھی، جو کہ اس مسجد کے ٹرسٹی تھے۔ مجاہد صاحب نے اس FIR میں مسجد کے ایک اور ٹرسٹ ممبران کو بطور مرزا لقمان بیگ کے قاتل کے طور پر الزام دیا تھا۔ ان ممبران کے نام تھے اشرف علی، ماجد، لڈن، شاہد اور اشتیاق اور یہ سب کے سب ایم کیو ایم حقیقی سے وابستہ تھے اور ان کے پاس اُس وقت (سن 1999 میں) لانڈھی کے علاقے پر مکمل کنٹرول تھا۔ اور کراچی میں ہر کوئی جانتا ہے کہ اس عرصہ میں لانڈھی کا علاقہ متحدہ کے لیے نو گو ایریا بنا ہوا تھا

سچ ہے کہ جھوٹ کے کوئی پاؤں نہیں ہوتے۔

 

حیدر عباس رضوی صاحب پر عاشورہ بم بلاسٹ کے الزام کا تجزیہ

ای میل چھاپیے پی ڈی ایف

امید ہے کہ اجمل صاحب کی جی آئی ٹی کی بنائی گئی "ویڈیو" اور "رپورٹ" میں تضاد اور جھوٹ کے متعلق آپ تفصیلا یہاں پڑھ چکے ہوں گے۔ حیرت ہے کہ اتنا بڑا جھوٹا بہتان اور مزید حیرت کہ اس پر چھ چھ ایجنسیوں والوں نے سائن کیے ہوئے ہیں۔

طلعت حسین نے اپنے شو میں اجمل پہاڑی کی اس جی آئی ٹی رپورٹ کے حوالے سے الزام لگایا ہے کہ:

1۔ عاشورہ کا یہ بم دھماکہ متحدہ نے خود کروایا ہے، اور اسکے بعد کراچی میں دکانوں کو لوٹنے کا پروگرام بھی متحدہ کی پلاننگ تھی اور اس لوٹ مار میں متحدہ کے ایک سو اراکین نے حصہ لیا۔

2۔ اور اس دھماکے اور لوٹ مار کے پروگرام کی ساری پلاننگ اور نگرانی حیدر عباس رضوی صاحب کر رہے تھے۔

دیکھیے طلعت حسین کے پروگرام کی مکمل ویڈیو اس لنک پر

اس جی ٹی آئی رپورٹ کی جو تھوڑی بہت کریڈیبلیٹی رہ گئی تھی، وہ بھی حیدر عباس رضوی پر عاشورہ دھاکے کی پلاننگ کے الزام کے بعد ختم ہو گئی ہے۔

نیٹ پر موجود اجمل جی آئی ٹی رپورٹ میں عاشورہ کا یہ واقعہ سرے سے موجود ہی نہیں

اور انتہائی حیرت انگیز بات ہے کہ نیٹ پر اجمل پہاڑی کی جو جی آئی ٹی رپورٹ موجود ہے، اس میں دور دور تک کہیں بھی عاشورہ کا یہ واقعہ بیان نہیں ہوا ہے۔  اس پر چھ چھ ایجنسیوں کے سائن موجود ہیں، مگر عاشورہ کا واقعہ ندارد

اجمل کی نیٹ پر جی آئی ٹی رپورٹ کا لنک

نیٹ پر موجود یہ جی آئی ٹی رپورٹ انگلش میں ہے، اور اس میں ہر ہر جرم کی تفصیل درج ہے، صفحات میں بھی مکمل ربط اور تسلسل قائم ہے۔ مزید براں یہ سمجھ میں آنے والی بات نہیں کہ عاشورہ بم بلاسٹ جیسے اہم واقعہ کو اس انگلش جی آئی ٹی میں شائع نہ کیا جائے۔

چنانچہ طلعت حسین کو اب بتلانا پڑے گا کہ اسکے پاس اجمل کی یہ دوسری جی آئی ٹی رپورٹ کہاں سے آئی۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی اسکا حساب دینا پڑے گا۔

حیدر عباس رضوی صاحب بذات خود عاشورہ کے جلوس میں موجود تھے

قارئین اس بات کو یاد رکھیں کہ حیدر عباس رضوی صاحب بذات خود عاشورہ کے اس جلوس میں موجود تھے۔

مزید براں:

  • اگر متحدہ کو دھماکہ کروا کر لوٹ مار کرنی تھی اور مارکیٹ کو آگ لگوانی تھی، تو پھر کراچی کی سٹی گورنمنٹ نے سی سی ٹی وی کیمروں کو کیوں آف نہیں کیا تاکہ تمام ثبوت مٹ جاتے؟
  • اور ان سی سی ٹی وی کیمروں پر ان لوٹ مار کرنے والوں کی تصاویر بہت صاف طور پر آئیں۔ ذولفقار مرزا (جن کے تحت پولیس تھی) وہ بتلائیں کہ انہوں نے ان تصاویر کی بنیاد پر متحدہ کے کتنے کارکنوں کو اُس وقت گرفتار کیا؟ (جی آئی ٹی رپورٹ کے مطابق یہ متحدہ کے سو اراکین تھے جو لوٹ مار اور آگ لگانے میں ملوث تھے، مگر حیرت کی بات ہے ذولفقار مرزا نے بے تحاشہ لوگوں کو گرفتار کیا مگر ان میں متحدہ کے کارکن نہیں تھے)۔ تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر وہ معصوم کون ہیں جنہیں انکے ہیرو ذولفقار مرزا نے گرفتار کیا تھا؟
  • اور اگر متحدہ کو اس مارکیٹ پر قبضہ ہی کرنا تھا تو پھر انہوں نے اسکی دوبارہ تعمیر کر کے کیوں دی؟

قصہ مختصر، حیدر عباس رضوی صاحب پر عاشورہ بم بلاسٹ اور لوٹ مار کا الزام لگا کر اس جی آئی ٹی رپورٹ کی رہی سہی کریڈیبلیٹی بھی ختم ہو گئی ہے۔ یہ جھوٹ الزام بذات خود ان مخالفین کے گلے پڑنے والا ہے۔ انشاء اللہ۔

 

منافقت: ذولفقار کے قرآن پر اعتبار مگر رحمان ملک کے کلمے پر اعتبار نہیں؟

ای میل چھاپیے پی ڈی ایف

ذولفقار مرزا نے قرآن سے کھلواڑ کرتے ہوئے جھوٹ بولا کہ پیپلز پارٹی میں کوئی دہشتگرد نہیں ۔۔۔ لیاری میں کوئی دہشتگرد نہیں ۔۔۔ رحمان ڈکیٹ دہشتگرد نہیں تھا بلکہ قرآن سے کھیلتے کھیلتے ذولفقار مرزا کہتا ہے کہ رحمان شہید ہے۔

متحدہ مخالفین  اسی ذولفقار مرزا کے جھوٹوں کو سہارا دینے کے لیے اسکے قرآن اٹھانے کو ہر جگہ پیش کرتے ہیں۔ انکے مطابق قرآن اٹھا کر ذولفقار مرزا پاک پوتر ہو گیا ہے۔

مگر ہائے اس منافقت کا کیا کیجئے۔۔۔

یہی وہ متحدہ مخالفین ہیں کہ رحمان ملک صاحب کی اس گواہی کا انکار کرتے ہیں جب رحمان ملک صاحب نے کہا  کہ اگر انہوں نے کسی کے کہنے پر کوئی ٹارگٹ کلر چھوڑا ہو تو مرتے دم انہیں کلمہ نصیب نہ ہو۔

کیا وجہ ہے کہ رحمان ملک صاحب نے اتنی بڑی بات کہہ دی مگر اس وقت یہ مخالفین دین، ایمان، کلمہ و موت سب کچھ بھول گئے اور ان میں سے کسی چیز کی انکے نزدیک اہمیت نہ رہی؟

ان متحدہ مخالفین کے رویے کے لیے لیے فقط ایک لفظ ۔۔۔۔ منافقین

 

الطاف حسین پر اسلام منکر ، نماز منکر اور دین کے دشمن ہونے کا الزام

ای میل چھاپیے پی ڈی ایف

تکبیر اخبار نے الطاف حسین پر الزامات لگائے ہیں کہ وہ اسلام منکر کے منکر ہیں، نماز کے منکر ہیں اور دین کے دشمن ہیں۔ تکبیر اخبار کے متین فاروقی نے الطاف حسین کے سابق باڈی گارڈ فرید خان کے حوالے سے یہ دعوی کیے ہیں:

1۔ الطاف حسین اپنے ساتھیوں کو کہتے ہیں کہ میں تو اس بات کا کا بھی قائل نہیں کہ عید کی نمازیں پڑھوں۔ میرا بس چلے تو میں عیدین کی نمازوں پر بھی پابندی لگا دوں۔

2۔ جب الطاف حسین کے ساتھی مذہبی گفتگر کرتے تو الطاف حسین چیخ کر کہتے کہ میں تہیں جتنا دین سے دور کرنا چاہتا ہوں، تم اتنی ہی باتیں کرتے ہو۔

تکبیر اخبار کا یہ مکمل مضمون آپ یہاں پڑھیں۔ صفحہ اول اور صفحہ دوم

جواب:

یہ شخص جھوٹ بول رہا ہے کہ الطاف حسین اسلام کا منکر اور دشمن ہے۔

یہ شخص پہلے حقیقی کے قاتل دہشتگردوں سے جا کر مل گیا۔۔۔۔۔ اسکے بعد کہتا ہے کہ جان کے خوف سے افغانستان میں طالبان کی گود میں جا بیٹھا (یعنی حقیقی کے بعد طالبان، کڑوے پر نیم چڑھا)۔۔۔۔۔ اس کے بعد اس سے الطاف حسین کے متعلق کون سے سچ کی امید رکھی جا سکتی ہے؟ سچ بولنا تھا تو اُس وقت بولتا جب تک الطاف حسین کے ساتھ رہ کر یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا۔

اسلام منکر سے قرآن اٹھانے کا اصرار کیوں؟

ایک طرف یہ مخالفین الطاف حسین پر اسلام منکر ہونے کا الزام لگاتے ہیں، اور دوسری طرف یہ گلہ بھی ہے کہ الطاف حسین قرآن اٹھا کر ذولفقار مرزا کا جواب کیوں نہیں دیتے۔

اب یہ لوگ خود ہی اس معمعہ کو حل کریں کہ اگر الطاف حسین اتنے ہی اسلام منکر ہیں تو پھر انہیں کس بات نے روکا ہے کہ وہ قران اٹھا کر جھوٹ نہ بولیں؟

اس شخص کے جھوٹے چہرے پر طمانچہ ہے یہ تصویر

الطاف حسین قرآن کی تلاوت فرما رہے ہیں

ویسے تو یہ پوری تقریر سننے کے قابل ہے۔ مگر فی الحال فقط آخری حصہ پیش خدمت ہے جس میں الطاف حسین قرآن کی تلاوت کر رہے ہیں۔

آپ میں سے کتنے ایسے مسلمان ہیں جنہیں اتنی قرآنی سورتیں زبانی یاد ہیں؟

کیا آپ ایسے شخص پر اسلام منکر ہونے کا الزام لگائیں گے جو ان قرآنی سورتوں کی تلاوت کر رہا ہے۔

خدا کے لیے اس ویڈیو کو غور سے دیکھئیے قبل اسکے کہ ان فرید صاحب جیسے لوگوں کی باتوں میں بہک کر کسی پر اسلام منکر، نماز منکر اور دین کے دشمن ہونے کا الزام لگاتے پھریں۔

 

الطاف حسین پر بوری کی دھمکی دینے کا الزام

ای میل چھاپیے پی ڈی ایف

مخالفین نے متحدہ پر "بوریوں" کے جھوٹے الزامات لگائے۔ آج ان کے اس جھوٹے پروپیگنڈوں کی طرف اشارہ کر کے قائد الطاف حسین پنجاب کے زمینداروں کو ازراہ مذاق یہ بات کہتے ہیں تو یہ بے وقوف مخالفین اس طنز کو سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ ایسی ہی بے وقوفی کی ایک داستان ان بے وقوف مخالفین نے لندن میں صحافی اظہر کے معاملے میں درج کی ہے۔

الطاف حسین کی پنجاب کی تقریر کا متن:

الطاف حسین صاحب کے الفاظ یہ ہیں کہ "ان جاگیرداروں نے ایم کیو ایم پر بڑے بڑے الزامات لگائے ہیں"۔ ان بڑے بڑے الزامات میں سے ایک الزام "بوری" کا بھی ہے۔ اس لیے الطاف حسین ازراہ مذاق ان پر طنز کر رہے ہیں کہ اگر انکے الزامات سچے ہیں تو پھر تو انہیں اپنے ناپ دے دینے چاہیے تاکہ انکی بوریاں بنائی جا سکیں۔

دیکھئیے الطاف حسین کے اپنے الفاظ اس ویڈیو میں:

یہ لوگ اپنے بغض و عناد کی وجہ سے عقل سے پیدل ہو چکے ہیں۔ یہ اس قابل نہیں رہے کہ یہ تمیز کر سکیں کہ کیا چیز حقیقت ہے اور کیا چیز ازراہ مذاق و طنز کہی گئی ہے۔

صحافی اظہر کو بوری کی دھمکی کی حقیقت

حال ہی میں الطاف حسین صاحب پر مخالفین نے الزام لگایا ہے کہ لندن میں پریس کانفرنس کے بعد سوالات کے جوابات دیتے ہوئے انہوں نے صحافی اظہر کو بوری میں بند کر دینے کی دھمکی دی ہے۔ اس چیز کو مخالفین نے اتنا سیریس بنا دیا کہ لندن میں صحافیوں کی یونین میں یہ کیس لے گئے اور الطاف حسین کے خلاف لندن عدالت میں کیس کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔

ہمارا جواب یہ ہے کہ یہ مخالفین بالکل عقل سے پیدل ہیں، یا پھر متحدہ بغض و عناد نے انہیں عقل سے پیدل کر دیا ہے۔

پہلے قارئین اس ویڈیو کو ملاحظہ فرمائیں جہاں قائد الطاف حسین بوری کی بات کر رہے ہیں۔

یہ ویڈیو بذات خود ان لوگوں کے منہ پر طمانچہ ہے جو الطاف حسین پر قتل کر دینے کی دھمکیاں دینے کے الزامات لگا رہے ہیں۔

اصل میں یہ لوگ اپنے بغض و عناد کی وجہ سے عقل سے پیدل ہو چکے ہیں۔ یہ اس قابل نہیں رہے کہ یہ تمیز کر سکیں کہ کیا چیز حقیقت ہے اور کیا چیز ازراہ مذاق و طنز کہی گئی ہے۔

اگر اپنی عقل پر اب بھی ان لوگوں کو اتنا ناز ہے تو جا کر برطانوی عدالت میں مقدمہ کر کے دکھائیں۔ برطانوی عدالت تو ایسے بے وقوفانہ کیس کو شاید درج تک نہ کرے۔

بہرحال، ہماری تو خواہش ہے کہ یہ "شیر" ذرا ہمت کر کے برطانوی عدالت میں یہ کیس رجسٹر تو کروائیں۔ یہ کیا ہے کہ جھوٹے الزامات لگاتے ہوئے تو یہ شیر ہوتے ہیں، مگر عدالت جاتے ہوئے چوہے بن جاتے ہیں؟

چاہے یہ ٹونی بلیئر کو لکھا گیا خط ہو ۔۔۔۔ یا ذولفقار مرزا کا پاکستان توڑنے کا الزام ہو، ۔۔۔۔ یا پھر یہاں صحافی کو قتل کی دھمکیاں دینے کا جھوٹا الزام ہو۔۔۔۔ ہر ہر مرتبہ عدالت جاتے ہوئے یہ شیر بالکل چوہے بنے ہوئے ہیں۔

الطاف بھائی کے اس طنز کی وجہ بقول شاعر:

؎

ہم پر الزام تو ویسے بھی ہے ایسے بھی سہی

نام بدنام تو ویسے بھی ہے ایسے بھی سہی

 

اجمل پہاڑی کی JIT ویڈیو اور JIT تحریری رپورٹ میں جھوٹ و تضاد

ای میل چھاپیے پی ڈی ایف

یہ جی آئی ٹی رپورٹیں کیسے بنائی جاتی ہیں، اسکا اندازہ آپ کو اس جھوٹ سے ہو جائے گا۔

یہ لنک ہے اجمل صاحب کی اس ویڈیو کا جو کہ جی آئی ٹی ٹیم نے پیش کی ہے۔

http://www.youtube.com/watch?v=GgOs7XTdaNo&feature=player_embedded

آپ اسے 6:35 سے آگے سن سکتے ہیں جس میں اجمل پہاڑی صاف صاف کہہ رہا ہے کہ الطاف حسین اور متحدہ کی جانب سے آج تک پاکستان توڑنے کی بات نہیں ہوئی اور نہ ہی ایسا کوئی لٹریچر آج تک بانٹا گیا ہے۔ بلکہ اسکی جگہ پارٹی انہیں صلاح الدین ایوبی اور نسیم حجازی کی کتابیں پڑھا کر تربیت کرتی ہے۔

مگر جی آئی ٹی کی اس ویڈیو کے مقابلے میں انکی اپنی تحریری رپورٹ ہے، جس میں یہ اجمل پہاڑی پر الزام لگا رہے ہیں کہ وہ کہہ رہے کہ متحدہ قیادت کی طرف سے کارکنوں کو لٹریچر فراہم کیا جاتا تھا کہ پاکستان کو توڑنا ہے اور الگ ریاست بنانی ہے۔

یہ دیکھئِے اس رپورٹ کا عکس:

 

اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ایسی جی آئی ٹی رپورٹ کی کیا حیثیت ہوتی ہے اور وہ کس طرح جھوٹے الزامات لگا کر متحدہ کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ذرا بتلائیے کہ کیسے ممکن ہے کہ ملک کی چھ ایجنسیاں اس رپورٹ پر بغیر پڑھے سائن کر دیں؟

 

 

 

اجمل پہاڑی کی ویڈیو کا جواب

ای میل چھاپیے پی ڈی ایف

متحدہ مخالفین اجمل پہاڑی صاحب کی ویڈیو پیش کرتے ہیں اور الزام لگاتے ہیں کہ متحدہ انڈیا کی ایجنٹ ہے کیونکہ اسکے کارکنوں نے انڈیا جا کر ٹریننگ حاصل کی ہے۔ مخالفین اجمل پہاڑی صاحب کی جو ویڈیو پیش کرتے ہیں، وہ یہ ہے:۔

http://www.youtube.com/watch?v=GgOs7XTdaNo

 

مزید پڑھیے۔۔۔
 

قائد الطاف حسین کی شخصیت: مکار / شاطر یا پھر انتہائی سادہ و مخلص انسان؟

ای میل چھاپیے پی ڈی ایف

مخالفین الزام لگاتے ہیں کہ الطاف حسین شاطر ہے، مکار ہے اور الطاف حسین دھوکے باز ہے۔

الطاف حسین صاحب کی ویڈیوز کئی بار دیکھی۔

ہر بار یہ ہی لگا کہ الطاف حسین سادہ انسان ہے

ہر زاویے سے یہ لگا کہ الطاف حسین جیسا اندر سے ہے، ویسا ہی باہر سے ہے اور اسکے لیے اتنی مکاری کرنا ممکن ہی نہیں کہ وہ کسی کو دھوکہ دے سکے۔

الطاف حسین ایک سادہ شخص ہے۔ وہ دوغلا نہیں ہے، وہ جیسا باہر سے ہے ایسا ہی اندر سے ہے۔

آپ سب لوگ ایک بار ویڈیو پھر دیکھئیے اور صدق دل سے بتلائیے کہ کیا واقعی آپ کو لگتا ہے کہ الطاف حسین اتنا شاطر انسان ہے کہ وہ دوسروں کو بے وقوف بنا سکے۔

****************

ہر انسان کی صلاحیتیں کچھ میدانوں میں کمزور ہوتی ہیں اور کچھ میدانوں میں مضبوط۔

الطاف حسین کے وژن نے ایم کیو ایم کو پاکستان کی سب سے منظم ترین جماعت بنایا ہے۔

الطاف حسین کے وژن نے متحدہ کو ایک جمہوری جماعت کی مکمل تصویر بنایا ہے۔

الطاف حسین کے وژن کا ہی کمال ہے کہ یہاں پر ایک فرد کی رائے کا وزن کم ہو جاتا ہے اور سسٹم زیادہ اہمیت حاصل کر لیتا ہے۔ متحدہ کے ہر ہر فیصلہ کو پہلے رابطہ کمیٹی اور دیگر سطحوں پر ڈسکس کیا جاتا ہے۔

الطاف حسین کی وژن کے باعث ہی متحدہ کے جو لوگ ایم این ایز بنے، وہ اتنے غریب تھے کہ نیشنل اسمبلی بس میں بیٹھ کر پہنچے۔

الطاف حسین کی وژن کی وجہ سے ہی الطاف حسین کے خاندان کو کوئی شخص وزیر ہے اور نہ ممبر اسمبلی اور نہ ہی کوئی اور عہدیدار۔

الطاف حسین کی وژن کی وجہ سے ہی مصطفی کمال جیسا باکمال لیکن غریب شخص کراچی کا میئر بنتا ہے اور پھر کراچی کی قسمت کی کایا پلٹ کر رکھ دیتا ہے۔


الطاف حسین ایک سادہ شخص ہے۔ وہ دوغلا نہیں ہے، وہ جیسا باہر سے ہے ایسا ہی اندر سے ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ الطاف حسین "ہم عوام" میں سے ہے۔ الطاف حسین ہمارے ساتھ "مخلص" ہے۔ 

**************

الطاف حسین کرپٹ نہیں ہے۔

الطاف حسین اپنے نظریات پر کبھی سودا نہیں کرتا۔

اسکا ثبوت ہے نوٹوں سے بھرا وہ بریف کیس جو کہ جنرل حمید گل نے الطاف حسین کو بھجوایا تھا۔ مگر الطاف حسین نے معذرت کر کے نوٹوں سے بھرا بریف کیس یہ کہہ کر واپس کر دیا کہ وہ اپنے اصولوں، اپنے نظریات کا سودا نہیں کر سکتا۔ یاد رہے یہ وہ وقت تھا جب ایجنسیاں (خاص طور پر آئی ایس آئی، ایوان صدر اور بذات خود حمید گل کا طوطی بولتا تھا)۔ بقیہ تمام کے تمام لیڈران نے حمید گل کے نوٹوں سے بھرا بریف کیس قبول کر لیا۔ واحد شخص الطاف حسین تھا جس نے اپنے اصولوں اور اپنے نظریات کا سودا نہیں کیا اور ایجنسیوں سے ٹکرا گیا۔

افسوس کہ اس پر بھی لوگ الزام لگاتے ہیں کہ الطاف حسین ایجنسیوں کا آدمی ہے اور ایجنسیوں نے ایم کیو ایم کو تشکیل دیا۔

برگیڈیئر امتیاز، جو کہ ڈائریکٹر تھے انٹیلیجنس بیورو کے، وہ نوٹوں کا یہ بریف کیس لے کر الطاف حسین کے پاس گئے تھے۔ مگر کئی گھنٹے کی ملاقات کے بعد جب وہ واپس پلٹے تو الطاف حسین کی شخصیت کے اس پہلو سے بہت متاثر تھے کہ الطاف حسین نے بکنے سے انکار کر دیا۔

*********************

الطاف حسین کی تقریر میں بھی اللہ تعالی نے بہت اثر رکھا تھا۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ انسان کی صلاحیتیں ختم ہونے لگتی ہیں۔ یہ ایک عالمگیر حقیقت ہے۔

لوگ آج کے الطاف حسین کو دیکھتے ہیں، مگر انہیں وہ الطاف حسین بھی یاد رکھنا چاہیے کہ جس کی تقریر عوام کے دلوں کی دھڑکن بن جاتی تھی۔ 
آج نہیں تو کل، عمران خان اور دیگر تمام لوگ بھی اسکا شکار ہوں گے۔

الطاف حسین کی اصل تقریر کا اثر دیکھنا ہے کہ کس طرح الطاف حسین نے اس تحریک میں روح پھونکی، تو انہیں الطاف حسین کی یہ ویڈیو دیکھنی چاہیے۔

 

اہلیان کراچی کا مقدمہ: ہم متحدہ کو کیوں ووٹ دیتے ہیں؟ ہم متحدہ کو دہشتگرد تنظیم کیوں نہیں مانتے ہیں؟

ای میل چھاپیے پی ڈی ایف

اہلیان وطن کو شکایت ہے کہ ہم متحدہ کو کیوں ووٹ دیتے ہیں۔ اہلیان وطن کو شکایت ہے کہ ہم متحدہ کو دہشتگرد کیوں نہیں مانتے ہیں؟

اہلیان وطن سے گذارش ہے کہ  ایک نظر ان حقائق پر ٹھنڈے دل سے نظر ڈالیں:۔

کیا پاکستان میں سب فرشتے بستے ہیں جو کہ سو فیصد غلطی فری ہیں اور ایم کیو ایم کے وجود میں آنے سے قبل کراچی میں انصاف کی نہریں بہتی تھیں اور کہیں ظلم کا نام و نشان تک نہ تھا؟

کیا یہ سچ نہیں ہے کہ مہاجروں اور ایم کیو ایم کے پاس اسلحے کے نام پر ایک پستول تک نہ ہوتا تھا؟

کیا یہ سچ نہیں ہے کہ جن تعلیمی اداروں کی آپ بات کرتے ہیں، وہاں پر جمیعت کے غنڈے ایم کیو ایم کے کارکنوں کو عرصے تک مارتے رہے، پیٹتے رہے اور انہیں یونیورسٹی سے بھگاتے رہے؟

کیا یہ سچ نہیں ہے کہ جس وقت ایم کیو ایم کے پاس اسلحے کے نام پر پستول تک نہیں تھا، اُس وقت سہراب گوٹھ میں اسلحے کا کاروبار پوری آب و تاب کے ساتھ ہوتا تھا؟

کیا یہ سچ نہیں ہے کہ 31 اکتوبر 1986میں سہراب گوٹھ سے حیدر آباد جانے والی ایم کیو ایم کی ریلی پر فائرنگ کر کے بے تحاشہ لوگوں کو مار دیا گیا اور بے تحاشہ مزید کو زخمی کر دیا گیا؟

کیا یہ سچ نہیں ہے کہ دسمبر 1986میں قصبہ کالونی اور علی گڑھ کالونی میں سہراب گوٹھ اور پہاڑوں سے لوگوں نے اتر کر چند گھنٹے میں تین سو معصوموں کو گولیوں سے بھون کر رکھ دیا، ہزاروں کی تعداد میں معصوم زخمی ہوئے اور کئی گھروں کو آگ لگا دی گئی۔ اس تمام وقت میں ایم کیو ایم کے پاس کوئی اسلحہ نہیں تھا۔

کیا یہ سچ نہیں کہ اسکے بعد مئی 1990 کو پکا قلعہ کا قتل عام ہوتا ہے جس میں پھر سینکڑوں مائیں اور بچے پہلے بھوک سے بلکتے ہیں اور جب قرآن سروں پر اٹھا کر باہر نکلتے ہیں تو گولیوں سے بھون دیے جاتے ہیں؟ کیا اس وقت متحدہ کے پاس اسلحہ تھا؟ کیا یہ نام نہاد سیاسی و مذہبی جماعتیں 12 مئی کی طرح پکا قلعہ کو بھی یاد رکھتی ہیں؟

کیا اس سارے وقت میں پاکستانی نظام نے، پاکستانی عدالتوں نے اہلیان کراچی کو کچھ انصاف فراہم کیا؟

جی ہاں، انصاف یہ فراہم کیا کہ قصبہ کالونی اور علیگڑھ کالوںی کے قتل عام پر بیٹھنے والے عدالتی کمیشن کی رپورٹ کو مکمل ہونے کے باوجود شائع ہی نہیں کیا گیا اور کہا گیا کہ یہ نسلی منافرت پیدا کرے گی لہذا اسے شائع نہیں کیا جا رہا۔ کیا یہ ظلم کرنے کا نیا بہانہ نہیں؟ اگر یہ عدالتی کمیشن کی رپورٹ شائع ہو جاتی تو پھر انہیں سہراب گوٹھ اور ان پہاڑوں پر مورچے بنانے والوں کے غیر قانونی اسلحے کے خلاف آپریشن کرنا پڑ جاتا۔ مگر برا ہو اس ناانصافی کا کہ جس کی وجہ سے ایک بہانے یا دوسرے بہانے ظلم کیا جاتا ہے۔

غور سے دیکھئیے اُس وقت کے وزیر اعلی سندھ غوث علی شاہ کا انٹرویو جہاں وہ بتلا رہے ہیں کہ سہراب گوٹھ کیسا اژدھا بن کر اہلیان کراچی کے گلے میں پھندا باندھ کر بیٹھ گیا ہے اور انکی گواہی کہ ان جرائم پیشہ افراد کے خلاف کاروائی کا انتقام لیتے ہوئے انہوں نے قصبہ کالونی اور علی گڑھ کالونی میں 300 معصوم اردو سپیکنگ مہاجروں کو بھون ڈالا۔

http://www.youtube.com/v/wouzyBtmSD4

آپ سے بہت اہم سوال:۔

کیا رسول اللہ (ص) کی حدیث آپ نے نہیں سنی کہ ایسے حالات میں سارا الزام "پہل" کرنے والے پر آتا ہے؟

کیا جمیعت کے غنڈوں سے روزآنہ پٹنے اور یونیورسٹی سے بھگائے جانے کے جواب میں سالوں تک اہلیان کراچی یہ مار کھاتے رہتے اور جمعیت کے غنڈوں کے ہاتھوں پٹتے رہتے؟

کیا سہراب گوٹھ کے جرائم پیشہ عناصر اپنے اسلحہ کی بنیاد پر اہلیان کراچی سے انکی زمینیں چھینتے رہتے اور اس لاقانونیت اور ناانصافی کے خلاف کوئی رد عمل پیدا نہیں ہوتا؟

کیا یہ سچ نہیں کہ مرکزی محکموں میں مرکزی حکومت کے وزراء سفارشوں پر اپنے لوگوں کو بھرتی کرواتے رہے اور صوبائی محکموں میں صوبائی وزراء سفارش پر اپنے لوگوں کو بھرتی کرواتے رہے اور یہ لوگ کراچی کے نہیں تھے بلکہ غیر مقامی تھی؟

کیا یہ سچ نہیں کہ میرٹ کے اس قتل عام کے بعد کوئی ردعمل پیدا ہوتا؟ کیا یہ سچ نہیں کراچی پولیس (پولیس سے لوگ سب سے زیادہ نفرت کرتے ہیں) میں اسی فیصد لوگ غیر مقامی تھی اور اکثریت اہل پنجاب کی تھی اور یہ میرٹ کا قتل کر کے بھرتی کیے گئے؟

کیا یہ سچ نہیں ہے کہ 1992 کا آپریشن فقط اور فقط ایم کیو ایم کے خلاف شروع کیا گیا اور سہراب گوٹھ میں آپریشن کر کے اسے اسلحے سے صاف نہیں کیا گیا؟

تو ہے کوئی جو اس منافقت کا جواب دے کہ صرف ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن ہی کیوں، اور 1992 سے لیکر 1999 تک سہراب گوٹھ کے نو گو ایریا کے خلاف آپریشن کیوں نہیں؟

 

آپ سچے دل سے اس سوال کا جواب دیں:۔

کیا یہ عمران خان اور اسکے حمایتیوں کی منافقت نہیں ہے جب وہ کہتا ہے کہ امریکہ نے ڈرونز حملوں کی "پہل" کی ہے اور طالبان کے خود کش حملے فقط اسکا رد عمل ہے۔ مگر جب ایم کیو ایم کی بات آتی ہے تو عمران خان جیسے لوگ منافق بن جاتے ہیں؟

آج تک عمران خان کے منہ سے سہراب گوٹھ کے غیر قانونی مہلک اسلحے کے خلاف ایک لفظ نکلا؟

اگر عمران خان کے منہ سے کچھ نکلتا ہے تو وہ "متحدہ متحدہ" نکلتا ہے۔ عمران منافق کو کراچی میں قانونی لائسنس کے اجراء پر روتے دھوتے دیکھ سکتے ہیں، مگر اسکے منہ سے آج تک ایک لفظ سہراب گوٹھ کے ہزاروں گنا زیادہ مہلک ترین اسلحے کے خلاف نہیں نکلا۔

 

ہم اہلیانِ وطن کو بتلاتے ہیں کہ ہم متحدہ کو ہرگز فرشتوں کی جماعت نہیں سمجھتے۔ ان کے پاس اسلحہ ہے، ان کی طرف سے زیادتیاں بھی ہوئی ہوں گی۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر ان سب کے باوجود ہم انہیں "پہل" کرنے والا نہیں سمجھتے، بلکہ یہ برسوں کے ظلم و ستم اور "نانصافی" کا وہ "ردعمل" ہے جو کہ ہر ہر صورت نمودار ہونا ہی تھا۔ پس متحدہ کے پاس اسلحہ ہونے کے باوجود ہم اس فساد کا ذمہ دار "پہل" کرنے والوں کو سمجھتے ہیں ۔

جبکہ اے اہلیانِ وطن، آپ لوگ بالکل آؤٹ آف بیلنس ہیں۔

آپ لوگوں نے کراچی کے اصل مسائل، اصل نا انصافیوں کے خلاف ایک آواز نہیں اٹھائی، اور سارا الزام آپ لوگوں نے فقط اور فقط متحدہ کے سر دھر دیا۔

آپ لوگوں نے آج تک سہراب گوٹھ سے ایک راکٹ لانچر اور دیگر مہلک اسلحے کے خلاف ایک آپریشن نہیں کیا۔۔۔۔ آپریشن تو درکنار آج تک اس آُپریشن کے لیے ایک لفظ منہ سے نہیں نکلا، مگر متحدہ کے خلاف آپ لوگوں نے 1992 سے لیکر 1999 تک ایک طویل آپریشن کر ڈالا جس میں جناح پور کے جھوٹے الزام لگا کر ان کا قتل عام کیا، پھر میجر کا جھوٹآ کیس بنا کر ان کا قتل کیا، پھر حکیم سعید کے قتل کا جھوٹا الزام لگا کر اہلیان کراچی کا قتل عام کیا۔

ایسے میں اگر ایم کیو ایم نے ردعمل دکھایا ہے اور پولیس والوں اور حقیقی کے قاتل دہشتگردوں کو جواب میں قتل کیا ہے تو ہمارے نزدیک پھر بھی سارا الزام "پہل" کرنے والے پر ہے۔ جبکہ آپ لوگوں کا رویہ یہ ہے کہ آپ لوگوں نے نصیر اللہ بابر اور شعیب سڈل جیسے قصائیوں کو ہیرو بنایا ہوا ہے۔

عمران خان انصاف کے نام پر ایم کیو ایم کو عدالت میں گھسیٹتا ہے، مگر نصیر اللہ بابر اور شعیب سڈل جیسے لوگوں سے گلے مل کر انہیں ہیرو بنا رہا ہوتا ہے۔ یہ انصاف ہے کہ منافقت؟

عمران خان ایم کیو ایم کو عدالت میں گھسیٹتا ہے، مگر حقیقی کے قاتل دہشتگردوں کو اسلام آباد میں اپنی گود میں بٹھائے ہوتا ہے۔ یہ انصاف ہے کہ منافقت؟

آپ لوگوں کو بیلنس میں آنا پڑے گا۔

متحدہ پر بے شک اعتراض کریں، مگر زیادہ اعتراض اور زیادہ قوت آپ کو ان بنیادی فتنوں پر خرچ کرنا پڑے گی کہ جس کے ردعمل کے طور پر متحدہ ابھری۔ جبتک یہ ناانصافیاں موجود ہیں، اس وقت تک اہلیان کراچی متحدہ کو سپورٹ کرتے رہیں گے۔ اور اگر آپ یہ نا انصافیاں ختم کر دیتے ہیں تو متحدہ صرف اس صورت میں بچ سکتی ہے کہ وہ اپنے اسلحے سے الگ ہو کر عوام اور شہر کی ترقی و تعمیر پر لگ جائے۔

شکایات تو ہم اہلیانِ کراچی کو اور بھی بہت سی ہیں۔

مثلا یہ تو کہا جاتا ہے کہ پاکستان سب کا ہے۔ ہم بھی یہ مانتے ہیں اور ہر پشتون بھائی کو خوش آمدید کہتے ہیں۔

مگر یہ کیا کہ جب بنگلہ دیش میں محصورینِ پاکستان کی واپسی کی بات ہوتی ہے تو پھر پاکستان سب کا نہیں رہتا؟ یہ وہ معصوم بیہاری پاکستانی ہیں جنہوں فقط پاکستان کے نام پر 1971 میں اپنی ہزاروں جانیں قربان کیں۔ مگر ان معصوموں کا سوال آنے پر "پاکستان سب کا" کا نعرہ بلند نہیں ہوتا اور انہیں کیمپوں میں تڑپنے کے لیے اکیلا چھوڑ دیا جاتا ہے۔ کیوں؟

اہلیان پاکستان ہمارے اس مقدمے پر غور فرمائیں تو انہیں سمجھ آ جائے گا کہ ہم کیوں متحدہ کو ووٹ دیتے ہیں۔

 

12 مئی: تمام اعتراضات کا تجزیہ

ای میل چھاپیے پی ڈی ایف

بارہ مئی کو کراچی میں قتل و فسادات کے ذمہ دار ہیں اے این پی کے وہ مسلح غنڈے جو اُس دن کراچی میں چیف جسٹس کی آڑ میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے نکلے تھے۔ مگر جب پہلی خبر اُن تک پہنچی کی چیف جسٹس طیارے کی فنی خرابی کی وجہ سے لاہور سے کراچی نہیں آ رہے اور ریلی منسوخ ہو گئی ہے، تو بجائے پُر امن طریقے سے منتشر ہو جانے کی بجائے مایوس ہو کر (کہ انہیں اپنی طاقت کے مظاہرے کا موقع نہیں مل سکا) انہوں نے متحدہ کی اُس ریلی پر فائرنگ شروع کر دی جس میں عورتیں بچے شامل تھے۔

متحدہ پر جھوٹ باندھنے والے کہتے ہیں کہ متحدہ نے پلاننگ کے تحت چیف جسٹس کی ریلی پر فائرنگ کی، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بارہ مئی کو پہلی خبر آنے کے بعد (کہ چیف جسٹس کراچی نہیں آ رہے اور ریلی منسوخ ہو گئی ہے) کوئی چیف جسٹس کو لینے ایئر پورٹ ہی نہیں پہنچا اور چیف جسٹس کی کوئی ریلی ہی نہیں نکلی کہ جس پر کوئی پلاننگ کے تحت فائرنگ ہوتی۔

نہیں، کراچی میں 12 مئی کو کسی جگہ کسی ریلی پر پلاننگ کے تحت کوئی فائرنگ نہیں ہوئی۔ بلکہ جب اے این پی کے غنڈوں نے متحدہ کی پُر امن ریلی پر پہلے فائرنگ کی تو اس کے نتیجے میں پورے شہر میں "فسادات" شروع ہو گئے۔ 12 مئی کو جتنی ہلاکتیں ہوئیں، ان میں سے کوئی بھی پلاننگ کے تحت کسی ریلی پر فائرنگ کے نتیجے میں نہیں ہوئی، بلکہ وہ سب کی سب شہر کے مختلف مختلف حصوں میں ہونے والے "فسادات" کے نتیجے میں ہوئیں، اور اسی لیے ان فسادات میں متحدہ کے اپنے 14 ساتھی شہید ہوئے۔

مختصر الفاظ میں، بارہ مئی کو فسادات شروع کرنے کے ذمہ دار تھے اے این پی کے وہ غنڈے جو چیف جسٹس کی ریلی کی منسوخی کی پہلی خبر سن کر پُر امن طور پر منتشر ہو جانے کی بجائے اسلحہ لیکر متحدہ کی ریلی پر ٹوٹ پڑے۔ یہ انکی اُس مایوسی کی وجہ سے ہوا کہ ریلی کی منسوخی کے بعد انہیں اُس دن چیف جسٹس کی آڑ میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کا موقع نہیں مل سکا۔ انکی یہ مایوسی 12 مئی کے فسادات کی سب سے بڑی وجہ بنی۔

12 مئی کے حوالے سے متحدہ مخالفین نے جتنا جھوٹا پروپیگنڈہ اور جتنی افتراء پردازیاں اور بہتان طرازیاں کیں، اسکے بعد اس تنظیم کا نام "متحدہ قومی مؤومنٹ" کی بجائے "مظلوم قومی مؤومنٹ" ہونا چاہیے۔ آج ہم ان تمام جھوٹے الزامات کا جواب دیتے ہوئے حقیقت بیان کرتے ہیں کہ:

مزید پڑھیے۔۔۔
 

جناح پور: تمام شواہد و الزامات آمنے سامنے

ای میل چھاپیے پی ڈی ایف

آج مؤرخہ 10 ستمبر 2009 کو جناح پور الزام کے سب سے اہم گواہ میجر (ر)  ندیم ڈار کا تازہ بیان آیا ہے کہ انہیں متحدہ کے جناح پور سازش میں شریک ہونے میں شک ہے اور وہ یقین سے نہیں کہہ سکتے یہ نقشے حقیقی نے رکھوائے ہیں یا کسی اور دوسرے عناصر (ایجنسیز؟؟؟) نے وہاں پلانٹ کیے۔

ہمارا یہ آرٹیکل 8 ستمبر 2009 کو شائع ہوا، اور آج مؤرخہ 10 ستمبر 2009 کو میجر (ر) ندیم ڈار کا تازہ بیان آ گیا ہے جو اُن سوالات کا نتیجہ ہے جو میجر (ر) ندیم ڈار صاحب سے اس لنک پر براہ راست کی جانے والی گفتگو میں کیے گئے۔

ہم میجر(ر) ندیم ڈار کے اس تازہ بیان کو اس آرٹیکل کے آخر میں بیان کر کے مزید تبصرہ کریں گے۔ قارئین سے درخواست ہے کہ پہلے وہ اس آرٹیکل کو پڑھ لیں تاکہ واقعات کر ربط مکمل قائم رہے اور انہیں ہر چیز بالکل صاف سمجھ میں آئے۔

مزید پڑھیے۔۔۔
 

الطاف حسین صاحب کی انڈیا میں تقریر کا مکمل متن اور تجزیہ

ای میل چھاپیے پی ڈی ایف

الطاف حسین صاحب نے انڈیا میں تقریر کرتے ہوئے پاکستان کے قیام کو Division of Blood قرار دیا۔ اس کو بنیاد بناتے ہوئے مخالفین نے الطاف بھائی اور پوری متحدہ پر فتوی جاری کر دیا کہ یہ لوگ پاکستان کے غدار ہیں اور پاکستان توڑنے کی بات کر رہے ہیں۔

ان لوگوں کی بے ایمانی کے انہوں نے تقریر کا صرف ایک ٹکڑا پیش کیا اور اس سے اگلا ٹکڑا بالکل حذف کر گئے جس میں الطاف بھائی پاکستان کے بارے میں اپنا پورا مؤقف انڈیا کو بتاتے ہوئے ہندوستانیوں کو کہتے ہیں کہ مگر اب پاکستان ایک حقیقت ہے اور دونوں کو ایک دوسرے کو پڑوسی ملک کے قبول کر لینا چاہیے اور آپس میں لڑائیاں جنگیں کرنے کی بجائے امن و امان قائم کر کے بھوکی ننگی قوم کی فلاح و بھلائی کے لیے ترقیاتی کام کرنے چاہیے ہیں۔

الطاف حسین کی تقریر کا مکمل متن نیچے پیش کر دیا گیا ہے۔ آپ سب لوگ پوری تقریر کو پڑھ سکتے ہیں اور آپ کو نظر آئے گا کہ:۔

۔ الطاف حسین انڈیا میں کھڑے ہو کر انڈین سے کہہ رہے ہیں کہ پاکستان اور انڈیا اب دو حقیقتیں اور دونوں ممالک کو ایک دوسرے کو اب بطور حقیقت قبول کر لینا چاہیے۔ بتلائیے کہ کیا یہ کہنا پاکستان سے غداری ہے؟

۔ الطاف حسین انڈیا میں کھڑے ہو کر کہہ رہے ہیں کہ کشمیر متنازعہ علاقہ ہے۔ اور اس مسئلے کو صرف اور صرف کشمیر کی عوام کی مرضی کے مطابق حل ہونا چاہیے۔ بتلائیے کہ کیا کشمیری عوام کے لیے یہ آواز اٹھانا پاکستان سے غداری ہے؟

۔ الطاف حسین انتہا پسندی (چاہے مسلم انتہا پسندی ہو یا ہندو انتہاپسندی) ان کے خلاف آواز اٹھا رہا ہے۔ کیا یہ پاکستان سے غداری ہے؟

مزید پڑھیے۔۔۔
 

لفظ مہاجر کے استعمال پر اعتراض

ای میل چھاپیے پی ڈی ایف

مسئلہ کو سمجھنے کی کوشش کریں اور وہ یہ ہے کہ پاکستان میں پانچ بنیادی کلچر موجود ہیں۔

۱۔ پنجاب کلچر (اور اس کلچر سے تعلق رکھنے والے کا نام ہے "پنجابی")۔

۲۔ پشتو کلچر (پشتون)

۳۔ سندھی کلچر (سندھی)

۴۔ بلوچی کلچر (بلوچی)

۵۔ کشمیری (کشمیری)

ان پانچ بنیادی تہذیبوں کے علاوہ کچھ ذیلی تہذیبیں بھی ہیں۔

۱۔ سرائیکی

۲۔ ہزارہ

۳۔ براہوی

یہ ساری تہذیبیں اپنی الگ شناخت اور الگ "نام" رکھتی ہیں جو انکی "پہچان" ہے۔

جو لوگ انڈیا سے ہجرت کر کے آئے ہیں، انکی بھی اپنی ایک ثقافت اور تہذیب ہے۔ مسئلہ یہ ہوا ہے کہ پاکستان والوں نے اس تہذیب کو کوئی نام نہیں دیا ہے جو اسکی پہچان بن سکے۔

1951 میں آئین میں ان انڈیا سے آنے والے لوگوں کا نام "مہاجر" درج کر دیا گیا اور اُسوقت سے یہ نام انکی "ثقافت و تہذیب" کی پہچان بنا ہوا ہے۔

اگر علاقے کے حساب سے چلیں تو انڈیا سے ہجرت کرنے والے ان لوگوں کی تہذیب کے ذیل کے نام ہو سکتے تھے:۔

۱۔ ہندوستانی تہذیب

۲۔ ہندوستانی مسلم تہذیب

اور اس کلچر سے تعلق رکھنے والے کو آپ زیادہ سے زیادہ "ہندوستانی مسلم" کہہ سکتے تھے، مگر چونکہ ہمیں لفظ "ہندوستانی" سے بطور پاکستانی کافی نفرت ہے، چنانچہ ان دونوں میں سے کوئی نام بھی نہیں لیا جا سکتا تھا جو انکی تہذیب کی پہچان بنتا (انڈیا میں مسلمانوں کے کلچر کو "انڈین مسلم کلچر" کا نام دیا گیا ہے)۔

دوسرا انکی تہذیب کا نام پڑ سکتا تھا انکی "زبان" کے نام پر۔ مگر انکی زبان "اردو" تھی جو کہ بقیہ پورے پاکستان (بشمول موجودہ بنگلہ دیش) کی قومی زبان بن گئی۔ اسکے بعد انکی تہذیب کو "اردو تہذیب" کا نام بھی نہیں جا سکتا تھا اور ان لوگوں کو "اردوستانی" بھی کہنا مشکل تھا۔

ایسے میں اس تہذیب کا نام قیام پاکستان سے "آفیشلی" طور پر "مہاجر" ہی چلتا رہا۔

مہاجر کے لفظی معنی ہجرت کرنے والے کے ہیں، مگر پاکستان میں یہ لفظ ایک "اصطلاح" بن گئی ہے اور یہ اصطلاح استعمال ہوتی ہے ایک "تہذیب" اور اس سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی پہچان کے لیے۔

آپ کسی سے اسکی تہذیب کی پہچان نہیں چھین سکتے۔

مزید پڑھیے۔۔۔
 

پروپیگنڈہ کہ کینیڈا نے ایم کیو ایم کو دہشتگرد تنظیم قرار دیا ہوا ہے

ای میل چھاپیے پی ڈی ایف

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔

عمران خان، منور حسن اور ایم کیو ایم سے عناد و بغض رکھنے والے دیگر مخالفین کا یہ نان سٹاپ پروپیگنڈہ ہے کہ کینیڈا کی ایک عدالت نے متحدہ کو دہشتگرد تنظیم قرار دے دیا۔ دیکھئیے عمران خان کے الزامات کی یہ ویڈیو۔

http://www.youtube.com/watch?v=gJcA0MPrGYI

 

مزید پڑھیے۔۔۔
 

الطاف حسین کے لندن سے قیادت کرنے پر اعتراض

ای میل چھاپیے پی ڈی ایف
عمران خان اور دیگر مخالفی کی طرف سے میڈیا کو انٹرویوز میں "مسلسل" اور نا ختم ہونے والے الزامات لگائے جا رہے ہیں کہ:
  • الطاف حسین لندن سے بیٹھ کر کیوں متحدہ کی قیادت کر رہے ہیں؟ یہ بات ثابت کرتی ہے کہ الطاف حسین محب وطن نہیں بلکہ غدار ہیں۔
  • اور عمران صاحب اس بات کا انکار کرتے ہیں کہ الطاف حسین صاحب کی جان کو پاکستان میں خطرہ ہے۔ انکا آرگومنٹ ہے کہ اب تو پاکستان میں متحدہ کی "حلیف" جماعت کی حکومت ہے تو ایسے میں الطاف حسین کی جان کو پاکستان میں کوئی خطرہ نہیں۔
جوابا عمران صاحب سے عرض ہے کہ:
مزید پڑھیے۔۔۔
 

موجودہ توہین رسالت آرڈیننس ہرگز شریعت کے مطابق نہیں (اپڈیٹڈ 13 فروری 2011)

ای میل چھاپیے پی ڈی ایف
Attachments:
FileتعارفFile size
Download this file (Tauheen_e_Risalat.pdf)Tauheen_e_Risalat.pdfآپ لوگوں سے درخواست ہے کہ اس پی ڈی ایف فائل کو بذریعہ ای میل تمام میڈیا اینکرز اور سیاسی اور مذہبی پارٹیوں کے پاس ارسال کریں۔ 749 Kb

کاپی رائیٹ نوٹس: تمام ویب سائیٹز اور اخبارات کو عام اجازت ہے کہ وہ اس آرٹیکل کو ایم کیو ایم پاکستانی ڈاٹ آرگ کا نام دے کر شائع کر سکتے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔
 

منافقت نامہ : عمران خان تحریک ناانصاف کی منافقتیں

ای میل چھاپیے پی ڈی ایف

عمران خان "انصاف" کے نام پر متحدہ کے خلاف کورٹ میں چلا گیا۔ اور پھر مزید ڈرامے کے لیے اس نے لندن تک کا رُخ کیا۔ (حالانکہ 12 مئی 2007 سے پہلے تک ان کا انصاف سویا ہوا تھا، اور 12 مئی کے بعد انکا انصاف یکدم اس لیے جاگا کیونکہ انہیں ایم کیو ایم کے خلاف نفرت کی سیاست کھیل کر سستی شہرت حاصل کرنی تھی)۔

مگر جب عمران خان سے سوال کیا گیا کہ بھائی "انصاف تو سب کے لیے ہوتا ہے" مگر آپ کا انصاف تو صرف ایم کیو ایم کے نام پر جاگتا ہے اور آپ کو عدالت میں لے جاتا ہے۔ اور اگر ایسا نہیں ہے تو پھر آپ نے پکا قلعہ آپریشن کرنے پر اُس وقت کی ریاستی حکومت کو دہشتگرد قرار دلوانے کے لیے عدالت میں کیوں نہیں گئے؟ نہیں، اُس وقت (2007 میں ) عمران خان پیپلز پارٹی کے لیڈران سے گلے مل رہا تھا اور انکے ساتھ مل کر پرویز مشرف کی ٹانگ کھینچنا چاہتا تھا، اس لیے پیپلز پارٹی کی ریاستی دہشتگردی پر انکے خلاف عدالت میں نہیں گیا۔ بعد میں فقط ایک جملہ کہہ کر اپنی جان چھڑا لی کہ ہاں پکا قلعہ میں جو ہوا اس پر مجھے افسوس ہے۔

اچھا، پکا قلعہ پر آپ عدالت میں نہیں گئے۔ تو یہ بتلائیے کہ یہ تو آپ خود مانتے ہیں کہ 1992 سے لیکر 1999 تک مسلسل مہاجروں کے خلاف جناح پور کے جھوٹے الزام کے نام پر وہ آپریشن کیا گیا جس میں ہزاروں مہاجر "ماورائے عدالت" قتل کیے گئے۔ جی ہاں، ان میں سے کسی کو بھی عدالت نے سزائے موت نہ دی، بلکہ ان سب کو پولیس اور ایجنسیز نے جناح پور کا جھوٹا الزام لگاتے ہوئے ماورائے عدالت قتل کیا۔

اور یہ ماورائے عدالت قتل کرنے والے نصیر اللہ بابر، اور شعیب سڈل کو آپ پھر کیوں عدالت میں نہیں لے کر گئے؟ کیا انصاف سب کے لیے نہیں ہوتا اور فقط اور فقط آپ کے سیاسی حریفوں کے لیے مخصوص ہے تاکہ آپ انکے خلاف نفرت کا کھیل کھیل کر سستی شہرت حاصل کر سکیں؟

اور عمران خان کی تحریک ناانصاف منافقت اُس وقت اور عیاں ہوئی جب نصیر اللہ بابر کو عدالت میں گھسیٹنے کی بجائے عمران خان اسے گلے لگا رہا تھا اور اسے کراچی میں ہزاروں معصوموں کو ماوارئے عدالت قتل کرنے پر خراج تحسین پیش کر رہا تھا۔ اور آج جب اس سے اس منافقت کے متعلق پوچھا جائے تو بہانہ ہوتا کہ وہ تو متحدہ کے خلاف ثبوت اکھٹے کرنے تھے۔

مزید پڑھیے۔۔۔
 

اقلیتیوں کو تبلیغ کی اجازت اور مرتد کا مسئلہ آج کے حالات کے مطابق

ای میل چھاپیے پی ڈی ایف

حال ہی میں ایک اور موضوع پر انگلش فورم میں گفتگو ہوتے ہوئے اس بات پر ضمنا بحث چلی جو بعد میں ضمنی بحث سے تفصیلی بحث میں تبدیل ہو گئی۔ قارئین کی دلچسپی کے لیے اس پوری گفتگو کا اردو ترجمہ کر کے اسے آرٹیکل کی شکل دی جا رہی ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔
 


آنلائن اراکین

ہمارے ہاں 213 مہمان آن لائن ہیں
Delicious

تازہ تبصرے, مکمل سائیٹ

49اتوار, 25 مارچ 2012 10:56
love_pak

شکریہ بیگ صاحب، ۔۔۔ علی ابن ابی طالب کا قول ہے کہ میں نے اللہ کو اپنے ارادوں کے ٹوٹنے سے پہچانا۔ انسان اللہ کی ایک بے بس مخلوق ہے جس کو مجبوریوں کے ہاتھوں زندگی میں کئی مقامات پر سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے۔ مثال کے طور محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کا ایک مقصد تھا مکہ میں رہنے والے مسلمانوں کو کفار کے ہاتھوں ہونے والے تشدد اور ظلم و ستم سے نجات دلانا۔ مگر مدنی زندگی کے پہلے چھ سات سال تک مسلمان کمزور تھے اور کفارِ مکہ پر حملہ کر کے اپنے مسلمان بھائیوں کو آزاد نہیں کرا سکتے تھے۔ پھر صلح حدیبیہ کا وقت آیا۔ اس وقت بھی مسلمان کمزور تھے اور رسول اللہ (ص) نے کفار سے جنگ کی بجائے ان سے معاہدہ کرنے کو ترجیح دی۔ 
صرف اور صرف  سن آٹھ ہجری میں جا کر مسلمانوں کو اتنی قوت حاصل ہوئی کہ وہ براہ راست مکہ پر حملہ کر کے اپنے مسلمان بھائیوں کو کفار کے ظلم و ستم سے نجات دلائیں۔
پاکستان کا موجودہ سسٹم اقلیتوں کو کوئی قانونی راستہ فراہم نہیں کرتا کہ وہ اپنے حقوق کو حاصل کر سکیں۔ اسکے لیے وہ لامحالہ اکثریت کے "ووٹ" کے محتاج ہیں۔ قانون سازی وفاقی سطح پر ہوتی ہے یا پھر صوبائی سطح پر، اور ان دونوں مقامات پر متحدہ اقلیت میں ہے اور کسی طرح ممکن نہیں کہ وہ ان اسمبلیوں سے اپنے حقوق کے لیے ووٹ منوا سکیں۔
دوسرا طریقہ یہ ہے کہ "آہستہ آہستہ" موجودہ نظام میں رہتے ہوئے ہی اپنے ہدف کی طرف بڑھا جائے۔ پہلے اپنے آپ کو مضبوط کیا جائے، اپنے اتحادی پیدا کیے جائیں، اپنے پیغام کو پہنچایا جائے، اپنے مسائل اور حقوق دوسروں کے سامنے اچھے طریقے سے پیش کیے جائیں۔۔۔۔ اسکے بعد امید ہے کہ موجودہ نظام میں رہتے ہوئے بھی مسائل حل ہو سکیں۔ 
آپ اس سے اتفاق کریں گے کہ اگرچہ کہ متحدہ براہ راست مہاجر صوبے کی تحریک نہیں چلا رہی، مگر پاکستان کی عوام کو خود بخود وقت یہ پیغام پہنچانے لگا ہے کہ اقلیتیی گروہوں کو انکا الگ صوبہ دینا چاہیے، چاہے یہ ہزارہ ہوں یا پھر سرائیکی یا پھر مہاجر۔ یہ تینوں قوتیں بھی وقت کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کے قریب آتی جا رہی ہیں اور متحدہ ان تینوں علاقوں میں برتری حاصل کر سکتی ہے۔
ایک اور طریقہ ہے کہ بجائے الگ صوبہ بنانے کے شہری حکومت  کے قیام کا۔ اسکے بعد الگ صوبے کی 80 فیصد ضروریات خود بخود پوری ہو جاتی ہیں۔ یہ عین ممکن ہے کہ اگر پیپلز پارٹی سے اتحاد جاری رہے، اور مستقبل میں پیپلز پارٹی کی پوزیشن وفاق یا صوبائی سطح پر کمزور ہو، تو وہ متحدہ کی بات ماننے پر مجبور ہوتے ہوئے کراچی میں شہری حکومت کے قیام کو عملی جامعہ پہنا دے۔ 
یہی حال کوٹہ سسٹم کا ہے۔ آپ کو موجودہ سسٹم میں اتنی سیٹیں حاصل کرنا ہوں گی اور عوام تک پیغام پہنچا کر انکی اکثریت کو اپنے ساتھ ملانا ہو گا۔ متحدہ نے اپنا سفر جاری رکھا ہوا ہے اور صورتحال پہلے سے بہتر ہے اور مزید بہتری کی طرف ہی جا رہی کہ عوام میں شعور پیدا ہوتا جا رہا ہے۔
موجودہ سسٹم سے اس وقت بغاوت کر کے ہم کچھ زیادہ حاصل نہیں کر سکیں گے۔ ایک متحدہ ہی نہیں، بلکہ سرائیکی اور ہزارہ والے بھی اپنے حقوق کے لیے فی الحال کچھ حاصل نہیں کر سکے ہیں، مگر یہ کہ عوام میں شعور بہت حد تک بیدار ہو چکا ہے اور کسی وقت بھی فیصلہ انکے حق میں ہو سکتا ہے.
علامہ اقبال نے فرمایا ہے: ؏ 
پیوستہ رہ شجر سے، امیدِ بہار رکھ

48ہفتہ, 24 مارچ 2012 21:40
Irshad Baig

Karachci kee Business Cummunity  hu ya Pura   Pakistan Altaf Bhai kay Sath hu.. Mager Altaf Bhai ney Muhajiroun kay leye keya keyah...Keya Urdu Speaking per Mussellet "Qota System" Khatem Hugaya....Keyah Urdu Speaking Kee "Qoumyet Ko Tasleem Keya Gayay.....Keya  Hamri Tehzeeb Sindhi Ajrek or Lal Toupi haay......Muhajir  kee ape koi shenaqet nahee mager Muhajir Dousree Qoumoun key Haqqoq Kee Baat Kertee Hay.......Yeh Souchney Kaa Muqaam  haay.....Altaf Bhai ko Ager Muhajiroun kaa Derd Haay to " Karachi Soobah " kee Jiddojehed start karain......

47ہفتہ, 17 دسمبر 2011 17:25
محمد ناظم

مہاجر نام میں ہی ہماری بقاء ہے۔ مجھے فخر ہے کہ میرے بزرگوں نے پاکستان بنایا تھا۔

46جمعہ, 16 دسمبر 2011 20:23
danish mnsoori

Altaf hussain pakistan ko bachana chahte hain aur hum altaf hussain k sath hain chahe hamari jaan he kyn na chali jaye is mulk ko bachane main..hamare baroo ne qurbaniyan di hain is mulk ko banane main..jiye altaf hussain jiye muttahida


 

45جمعرات, 15 دسمبر 2011 16:34
ایم کیو ایم تجھے سلام

ایک بھائی نے اعتراض کیا ہے کہ:

 آپ اپنی بے گناہی ثابت کرنے کےلیے وہ دو سورسز استعمال کر رہے ہیں جو کہ آپ کے لحاظ سے جھوٹے ہیں۔ پہلا سورس ہے پولیس ڈیپارٹمنٹ کی رپورٹ اور دوسرا سورس ہے امت اخبار

ان بھائی کی خدمت میں عرض ہے کہ:
آپ کی اس بات میں بنیادی سقم یہ ہے کہ "ثبوت" پیش کرنا "الزام" لگانے والی ذمہ داری ہوتا ہے۔ 
ایم کیو ایم پر الزامات کی بوچھاڑ کی گئی، اور اسکے لیے استعمال کیے گئے یہی دو سورسز "پولیس" اور "امت اخبار"۔
اللہ کی قدرت کہ آج انہی دو سورسز نے "الٹا" متحدہ مخالفین کی گردنوں کو جا دبوچا۔
یہ پوسٹ ان لوگوں کو شرمسار کرنے کے لیے ہے جو ان دو سورسز کی بنیاد پر ہمارے قتل کے در پر ہو گئے تھے۔ 
بقیہ اگر یہ خبر کسی اور اخبار میں نہیں بھی آتی، تب بھی متحدہ پر سے الزامات کا خاتمہ ہو جاتا ہے کیونکہ ان سورسز کے علاوہ متحدہ کے خلاف   کوئی اور ثبوت سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔

Syndication

feed-image Feed Entries

قائدِ تحریک نے فرمایا

"

راہ حق کی جدوجہد میں کٹھن اور مشکل راہوں سے گذرنا ہی پڑتا ہے۔ بھوک افلاس کو برداشت کرنا ہی پڑتا ہے۔ قربانیاں دینی ہی پڑتی ہیں۔ انگنت تکالیف جھیلنی ہی پڑتی ہیں، لیکن جدوجہد کے ان کٹھن اور مشکل حالات میں جو ثابت قدم رہتے ہیں، اللہ بھی انہی کا ساتھ دیتا ہے۔ یعنی جدوجہد کی کامیابی تک پہنچنے کیلئے ثابت قدم رہنا شرط ہے۔

"

قائد تحریک الطاف حسین، پاک ایشیا کو انٹرویو، لندن اگست 1992


اعتراضات و الزامات کا تجزیہ