اہلیان وطن کو شکایت ہے کہ ہم متحدہ کو کیوں ووٹ دیتے ہیں۔ اہلیان وطن کو شکایت ہے کہ ہم متحدہ کو دہشتگرد کیوں نہیں مانتے ہیں؟
اہلیان وطن سے گذارش ہے کہ ایک نظر ان حقائق پر ٹھنڈے دل سے نظر ڈالیں:۔
کیا پاکستان میں سب فرشتے بستے ہیں جو کہ سو فیصد غلطی فری ہیں اور ایم کیو ایم کے وجود میں آنے سے قبل کراچی میں انصاف کی نہریں بہتی تھیں اور کہیں ظلم کا نام و نشان تک نہ تھا؟
کیا یہ سچ نہیں ہے کہ مہاجروں اور ایم کیو ایم کے پاس اسلحے کے نام پر ایک پستول تک نہ ہوتا تھا؟
کیا یہ سچ نہیں ہے کہ جن تعلیمی اداروں کی آپ بات کرتے ہیں، وہاں پر جمیعت کے غنڈے ایم کیو ایم کے کارکنوں کو عرصے تک مارتے رہے، پیٹتے رہے اور انہیں یونیورسٹی سے بھگاتے رہے؟
کیا یہ سچ نہیں ہے کہ جس وقت ایم کیو ایم کے پاس اسلحے کے نام پر پستول تک نہیں تھا، اُس وقت سہراب گوٹھ میں اسلحے کا کاروبار پوری آب و تاب کے ساتھ ہوتا تھا؟
کیا یہ سچ نہیں ہے کہ 31 اکتوبر 1986میں سہراب گوٹھ سے حیدر آباد جانے والی ایم کیو ایم کی ریلی پر فائرنگ کر کے بے تحاشہ لوگوں کو مار دیا گیا اور بے تحاشہ مزید کو زخمی کر دیا گیا؟
کیا یہ سچ نہیں ہے کہ دسمبر 1986میں قصبہ کالونی اور علی گڑھ کالونی میں سہراب گوٹھ اور پہاڑوں سے لوگوں نے اتر کر چند گھنٹے میں تین سو معصوموں کو گولیوں سے بھون کر رکھ دیا، ہزاروں کی تعداد میں معصوم زخمی ہوئے اور کئی گھروں کو آگ لگا دی گئی۔ اس تمام وقت میں ایم کیو ایم کے پاس کوئی اسلحہ نہیں تھا۔
کیا یہ سچ نہیں کہ اسکے بعد مئی 1990 کو پکا قلعہ کا قتل عام ہوتا ہے جس میں پھر سینکڑوں مائیں اور بچے پہلے بھوک سے بلکتے ہیں اور جب قرآن سروں پر اٹھا کر باہر نکلتے ہیں تو گولیوں سے بھون دیے جاتے ہیں؟ کیا اس وقت متحدہ کے پاس اسلحہ تھا؟ کیا یہ نام نہاد سیاسی و مذہبی جماعتیں 12 مئی کی طرح پکا قلعہ کو بھی یاد رکھتی ہیں؟
کیا اس سارے وقت میں پاکستانی نظام نے، پاکستانی عدالتوں نے اہلیان کراچی کو کچھ انصاف فراہم کیا؟
جی ہاں، انصاف یہ فراہم کیا کہ قصبہ کالونی اور علیگڑھ کالوںی کے قتل عام پر بیٹھنے والے عدالتی کمیشن کی رپورٹ کو مکمل ہونے کے باوجود شائع ہی نہیں کیا گیا اور کہا گیا کہ یہ نسلی منافرت پیدا کرے گی لہذا اسے شائع نہیں کیا جا رہا۔ کیا یہ ظلم کرنے کا نیا بہانہ نہیں؟ اگر یہ عدالتی کمیشن کی رپورٹ شائع ہو جاتی تو پھر انہیں سہراب گوٹھ اور ان پہاڑوں پر مورچے بنانے والوں کے غیر قانونی اسلحے کے خلاف آپریشن کرنا پڑ جاتا۔ مگر برا ہو اس ناانصافی کا کہ جس کی وجہ سے ایک بہانے یا دوسرے بہانے ظلم کیا جاتا ہے۔
غور سے دیکھئیے اُس وقت کے وزیر اعلی سندھ غوث علی شاہ کا انٹرویو جہاں وہ بتلا رہے ہیں کہ سہراب گوٹھ کیسا اژدھا بن کر اہلیان کراچی کے گلے میں پھندا باندھ کر بیٹھ گیا ہے اور انکی گواہی کہ ان جرائم پیشہ افراد کے خلاف کاروائی کا انتقام لیتے ہوئے انہوں نے قصبہ کالونی اور علی گڑھ کالونی میں 300 معصوم اردو سپیکنگ مہاجروں کو بھون ڈالا۔
http://www.youtube.com/v/wouzyBtmSD4
آپ سے بہت اہم سوال:۔
کیا رسول اللہ (ص) کی حدیث آپ نے نہیں سنی کہ ایسے حالات میں سارا الزام "پہل" کرنے والے پر آتا ہے؟
کیا جمیعت کے غنڈوں سے روزآنہ پٹنے اور یونیورسٹی سے بھگائے جانے کے جواب میں سالوں تک اہلیان کراچی یہ مار کھاتے رہتے اور جمعیت کے غنڈوں کے ہاتھوں پٹتے رہتے؟
کیا سہراب گوٹھ کے جرائم پیشہ عناصر اپنے اسلحہ کی بنیاد پر اہلیان کراچی سے انکی زمینیں چھینتے رہتے اور اس لاقانونیت اور ناانصافی کے خلاف کوئی رد عمل پیدا نہیں ہوتا؟
کیا یہ سچ نہیں کہ مرکزی محکموں میں مرکزی حکومت کے وزراء سفارشوں پر اپنے لوگوں کو بھرتی کرواتے رہے اور صوبائی محکموں میں صوبائی وزراء سفارش پر اپنے لوگوں کو بھرتی کرواتے رہے اور یہ لوگ کراچی کے نہیں تھے بلکہ غیر مقامی تھی؟
کیا یہ سچ نہیں کہ میرٹ کے اس قتل عام کے بعد کوئی ردعمل پیدا ہوتا؟ کیا یہ سچ نہیں کراچی پولیس (پولیس سے لوگ سب سے زیادہ نفرت کرتے ہیں) میں اسی فیصد لوگ غیر مقامی تھی اور اکثریت اہل پنجاب کی تھی اور یہ میرٹ کا قتل کر کے بھرتی کیے گئے؟
کیا یہ سچ نہیں ہے کہ 1992 کا آپریشن فقط اور فقط ایم کیو ایم کے خلاف شروع کیا گیا اور سہراب گوٹھ میں آپریشن کر کے اسے اسلحے سے صاف نہیں کیا گیا؟
تو ہے کوئی جو اس منافقت کا جواب دے کہ صرف ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن ہی کیوں، اور 1992 سے لیکر 1999 تک سہراب گوٹھ کے نو گو ایریا کے خلاف آپریشن کیوں نہیں؟
آپ سچے دل سے اس سوال کا جواب دیں:۔
کیا یہ عمران خان اور اسکے حمایتیوں کی منافقت نہیں ہے جب وہ کہتا ہے کہ امریکہ نے ڈرونز حملوں کی "پہل" کی ہے اور طالبان کے خود کش حملے فقط اسکا رد عمل ہے۔ مگر جب ایم کیو ایم کی بات آتی ہے تو عمران خان جیسے لوگ منافق بن جاتے ہیں؟
آج تک عمران خان کے منہ سے سہراب گوٹھ کے غیر قانونی مہلک اسلحے کے خلاف ایک لفظ نکلا؟
اگر عمران خان کے منہ سے کچھ نکلتا ہے تو وہ "متحدہ متحدہ" نکلتا ہے۔ عمران منافق کو کراچی میں قانونی لائسنس کے اجراء پر روتے دھوتے دیکھ سکتے ہیں، مگر اسکے منہ سے آج تک ایک لفظ سہراب گوٹھ کے ہزاروں گنا زیادہ مہلک ترین اسلحے کے خلاف نہیں نکلا۔
ہم اہلیانِ وطن کو بتلاتے ہیں کہ ہم متحدہ کو ہرگز فرشتوں کی جماعت نہیں سمجھتے۔ ان کے پاس اسلحہ ہے، ان کی طرف سے زیادتیاں بھی ہوئی ہوں گی۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر ان سب کے باوجود ہم انہیں "پہل" کرنے والا نہیں سمجھتے، بلکہ یہ برسوں کے ظلم و ستم اور "نانصافی" کا وہ "ردعمل" ہے جو کہ ہر ہر صورت نمودار ہونا ہی تھا۔ پس متحدہ کے پاس اسلحہ ہونے کے باوجود ہم اس فساد کا ذمہ دار "پہل" کرنے والوں کو سمجھتے ہیں ۔
جبکہ اے اہلیانِ وطن، آپ لوگ بالکل آؤٹ آف بیلنس ہیں۔
آپ لوگوں نے کراچی کے اصل مسائل، اصل نا انصافیوں کے خلاف ایک آواز نہیں اٹھائی، اور سارا الزام آپ لوگوں نے فقط اور فقط متحدہ کے سر دھر دیا۔
آپ لوگوں نے آج تک سہراب گوٹھ سے ایک راکٹ لانچر اور دیگر مہلک اسلحے کے خلاف ایک آپریشن نہیں کیا۔۔۔۔ آپریشن تو درکنار آج تک اس آُپریشن کے لیے ایک لفظ منہ سے نہیں نکلا، مگر متحدہ کے خلاف آپ لوگوں نے 1992 سے لیکر 1999 تک ایک طویل آپریشن کر ڈالا جس میں جناح پور کے جھوٹے الزام لگا کر ان کا قتل عام کیا، پھر میجر کا جھوٹآ کیس بنا کر ان کا قتل کیا، پھر حکیم سعید کے قتل کا جھوٹا الزام لگا کر اہلیان کراچی کا قتل عام کیا۔
ایسے میں اگر ایم کیو ایم نے ردعمل دکھایا ہے اور پولیس والوں اور حقیقی کے قاتل دہشتگردوں کو جواب میں قتل کیا ہے تو ہمارے نزدیک پھر بھی سارا الزام "پہل" کرنے والے پر ہے۔ جبکہ آپ لوگوں کا رویہ یہ ہے کہ آپ لوگوں نے نصیر اللہ بابر اور شعیب سڈل جیسے قصائیوں کو ہیرو بنایا ہوا ہے۔
عمران خان انصاف کے نام پر ایم کیو ایم کو عدالت میں گھسیٹتا ہے، مگر نصیر اللہ بابر اور شعیب سڈل جیسے لوگوں سے گلے مل کر انہیں ہیرو بنا رہا ہوتا ہے۔ یہ انصاف ہے کہ منافقت؟
عمران خان ایم کیو ایم کو عدالت میں گھسیٹتا ہے، مگر حقیقی کے قاتل دہشتگردوں کو اسلام آباد میں اپنی گود میں بٹھائے ہوتا ہے۔ یہ انصاف ہے کہ منافقت؟
آپ لوگوں کو بیلنس میں آنا پڑے گا۔
متحدہ پر بے شک اعتراض کریں، مگر زیادہ اعتراض اور زیادہ قوت آپ کو ان بنیادی فتنوں پر خرچ کرنا پڑے گی کہ جس کے ردعمل کے طور پر متحدہ ابھری۔ جبتک یہ ناانصافیاں موجود ہیں، اس وقت تک اہلیان کراچی متحدہ کو سپورٹ کرتے رہیں گے۔ اور اگر آپ یہ نا انصافیاں ختم کر دیتے ہیں تو متحدہ صرف اس صورت میں بچ سکتی ہے کہ وہ اپنے اسلحے سے الگ ہو کر عوام اور شہر کی ترقی و تعمیر پر لگ جائے۔
شکایات تو ہم اہلیانِ کراچی کو اور بھی بہت سی ہیں۔
مثلا یہ تو کہا جاتا ہے کہ پاکستان سب کا ہے۔ ہم بھی یہ مانتے ہیں اور ہر پشتون بھائی کو خوش آمدید کہتے ہیں۔
مگر یہ کیا کہ جب بنگلہ دیش میں محصورینِ پاکستان کی واپسی کی بات ہوتی ہے تو پھر پاکستان سب کا نہیں رہتا؟ یہ وہ معصوم بیہاری پاکستانی ہیں جنہوں فقط پاکستان کے نام پر 1971 میں اپنی ہزاروں جانیں قربان کیں۔ مگر ان معصوموں کا سوال آنے پر "پاکستان سب کا" کا نعرہ بلند نہیں ہوتا اور انہیں کیمپوں میں تڑپنے کے لیے اکیلا چھوڑ دیا جاتا ہے۔ کیوں؟
اہلیان پاکستان ہمارے اس مقدمے پر غور فرمائیں تو انہیں سمجھ آ جائے گا کہ ہم کیوں متحدہ کو ووٹ دیتے ہیں۔
شکریہ بیگ صاحب، ۔۔۔ علی ابن ابی طالب کا قول ہے کہ میں نے اللہ کو اپنے ارادوں کے ٹوٹنے سے پہچانا۔ انسان اللہ کی ایک بے بس مخلوق ہے جس کو مجبوریوں کے ہاتھوں زندگی میں کئی مقامات پر سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے۔ مثال کے طور محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کا ایک مقصد تھا مکہ میں رہنے والے مسلمانوں کو کفار کے ہاتھوں ہونے والے تشدد اور ظلم و ستم سے نجات دلانا۔ مگر مدنی زندگی کے پہلے چھ سات سال تک مسلمان کمزور تھے اور کفارِ مکہ پر حملہ کر کے اپنے مسلمان بھائیوں کو آزاد نہیں کرا سکتے تھے۔ پھر صلح حدیبیہ کا وقت آیا۔ اس وقت بھی مسلمان کمزور تھے اور رسول اللہ (ص) نے کفار سے جنگ کی بجائے ان سے معاہدہ کرنے کو ترجیح دی۔
صرف اور صرف سن آٹھ ہجری میں جا کر مسلمانوں کو اتنی قوت حاصل ہوئی کہ وہ براہ راست مکہ پر حملہ کر کے اپنے مسلمان بھائیوں کو کفار کے ظلم و ستم سے نجات دلائیں۔
پاکستان کا موجودہ سسٹم اقلیتوں کو کوئی قانونی راستہ فراہم نہیں کرتا کہ وہ اپنے حقوق کو حاصل کر سکیں۔ اسکے لیے وہ لامحالہ اکثریت کے "ووٹ" کے محتاج ہیں۔ قانون سازی وفاقی سطح پر ہوتی ہے یا پھر صوبائی سطح پر، اور ان دونوں مقامات پر متحدہ اقلیت میں ہے اور کسی طرح ممکن نہیں کہ وہ ان اسمبلیوں سے اپنے حقوق کے لیے ووٹ منوا سکیں۔
دوسرا طریقہ یہ ہے کہ "آہستہ آہستہ" موجودہ نظام میں رہتے ہوئے ہی اپنے ہدف کی طرف بڑھا جائے۔ پہلے اپنے آپ کو مضبوط کیا جائے، اپنے اتحادی پیدا کیے جائیں، اپنے پیغام کو پہنچایا جائے، اپنے مسائل اور حقوق دوسروں کے سامنے اچھے طریقے سے پیش کیے جائیں۔۔۔۔ اسکے بعد امید ہے کہ موجودہ نظام میں رہتے ہوئے بھی مسائل حل ہو سکیں۔
آپ اس سے اتفاق کریں گے کہ اگرچہ کہ متحدہ براہ راست مہاجر صوبے کی تحریک نہیں چلا رہی، مگر پاکستان کی عوام کو خود بخود وقت یہ پیغام پہنچانے لگا ہے کہ اقلیتیی گروہوں کو انکا الگ صوبہ دینا چاہیے، چاہے یہ ہزارہ ہوں یا پھر سرائیکی یا پھر مہاجر۔ یہ تینوں قوتیں بھی وقت کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کے قریب آتی جا رہی ہیں اور متحدہ ان تینوں علاقوں میں برتری حاصل کر سکتی ہے۔
ایک اور طریقہ ہے کہ بجائے الگ صوبہ بنانے کے شہری حکومت کے قیام کا۔ اسکے بعد الگ صوبے کی 80 فیصد ضروریات خود بخود پوری ہو جاتی ہیں۔ یہ عین ممکن ہے کہ اگر پیپلز پارٹی سے اتحاد جاری رہے، اور مستقبل میں پیپلز پارٹی کی پوزیشن وفاق یا صوبائی سطح پر کمزور ہو، تو وہ متحدہ کی بات ماننے پر مجبور ہوتے ہوئے کراچی میں شہری حکومت کے قیام کو عملی جامعہ پہنا دے۔
یہی حال کوٹہ سسٹم کا ہے۔ آپ کو موجودہ سسٹم میں اتنی سیٹیں حاصل کرنا ہوں گی اور عوام تک پیغام پہنچا کر انکی اکثریت کو اپنے ساتھ ملانا ہو گا۔ متحدہ نے اپنا سفر جاری رکھا ہوا ہے اور صورتحال پہلے سے بہتر ہے اور مزید بہتری کی طرف ہی جا رہی کہ عوام میں شعور پیدا ہوتا جا رہا ہے۔
موجودہ سسٹم سے اس وقت بغاوت کر کے ہم کچھ زیادہ حاصل نہیں کر سکیں گے۔ ایک متحدہ ہی نہیں، بلکہ سرائیکی اور ہزارہ والے بھی اپنے حقوق کے لیے فی الحال کچھ حاصل نہیں کر سکے ہیں، مگر یہ کہ عوام میں شعور بہت حد تک بیدار ہو چکا ہے اور کسی وقت بھی فیصلہ انکے حق میں ہو سکتا ہے.
علامہ اقبال نے فرمایا ہے: ؏
پیوستہ رہ شجر سے، امیدِ بہار رکھ
Karachci kee Business Cummunity hu ya Pura Pakistan Altaf Bhai kay Sath hu.. Mager Altaf Bhai ney Muhajiroun kay leye keya keyah...Keya Urdu Speaking per Mussellet "Qota System" Khatem Hugaya....Keyah Urdu Speaking Kee "Qoumyet Ko Tasleem Keya Gayay.....Keya Hamri Tehzeeb Sindhi Ajrek or Lal Toupi haay......Muhajir kee ape koi shenaqet nahee mager Muhajir Dousree Qoumoun key Haqqoq Kee Baat Kertee Hay.......Yeh Souchney Kaa Muqaam haay.....Altaf Bhai ko Ager Muhajiroun kaa Derd Haay to " Karachi Soobah " kee Jiddojehed start karain......
مہاجر نام میں ہی ہماری بقاء ہے۔ مجھے فخر ہے کہ میرے بزرگوں نے پاکستان بنایا تھا۔
Altaf hussain pakistan ko bachana chahte hain aur hum altaf hussain k sath hain chahe hamari jaan he kyn na chali jaye is mulk ko bachane main..hamare baroo ne qurbaniyan di hain is mulk ko banane main..jiye altaf hussain jiye muttahida
ایک بھائی نے اعتراض کیا ہے کہ:
ان بھائی کی خدمت میں عرض ہے کہ:
آپ کی اس بات میں بنیادی سقم یہ ہے کہ "ثبوت" پیش کرنا "الزام" لگانے والی ذمہ داری ہوتا ہے۔
ایم کیو ایم پر الزامات کی بوچھاڑ کی گئی، اور اسکے لیے استعمال کیے گئے یہی دو سورسز "پولیس" اور "امت اخبار"۔
اللہ کی قدرت کہ آج انہی دو سورسز نے "الٹا" متحدہ مخالفین کی گردنوں کو جا دبوچا۔
یہ پوسٹ ان لوگوں کو شرمسار کرنے کے لیے ہے جو ان دو سورسز کی بنیاد پر ہمارے قتل کے در پر ہو گئے تھے۔
بقیہ اگر یہ خبر کسی اور اخبار میں نہیں بھی آتی، تب بھی متحدہ پر سے الزامات کا خاتمہ ہو جاتا ہے کیونکہ ان سورسز کے علاوہ متحدہ کے خلاف کوئی اور ثبوت سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔